اوکسفرڈ یونیورسٹی کی تحقیق
وٹامن اے سپلیمنٹ دینے سے سالانہ 600,000 شیر خوار بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے
ایک بین الاقوامی تحقیق کے مطابق کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو وٹامن اے سپلیمنٹ دینے سے ان میں اندھے پن، بیماریوں اوراموات کی شرح کو قابل ذکر حد تک کم کیا جا سکتا ہے
۔یونیورسٹی آف اوکسفرڈ اور آغا خان یورنیورسٹی، پاکستان کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں بچوں کو وٹامن اے سپلیمنٹ دینے سے ان میں اموات کی شرح اندازاً ایک چوتھائی (24 فیصد) کم ہو جاتی ہے۔ آن لائن دستیاب برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ سپلیمنٹ خسرہ اور ہیضے کی شرح میں بھی کمی کا باعث بنتا ہے
۔یونیورسٹی آف اوکسفرڈ کے سینٹر فار ایویڈینس بیسڈ انٹروینشن اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے تحقیق کار یہ تجویز پیش کر رہے ہیں کہ ایسے تمام بچوں کو یہ سپلیمنٹ دینا چاہیے جن کی خوراک میں وٹامن اے کی مناسب مقد ار شامل نہیں ۔تحقیق کاروں کے مطابق اس سپلیمنٹ کے فوائد اتنے واضح ہیں کہ ان کی موجودگی میں وٹامن اے اور نقلی دوا کے تقابلی جائزے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
اس مطالعے کے نتائج 43 آزمائشی ٹیسٹس پر مبنی ہیں جن میں کچھ بچوں کو وٹامن اے اور دیگر کو نقلی دوا یا کوئی بھی دوا نہیں دی گئی۔ تحقیقاتی نمونے میں 6 ماہ سے 5 سال کی عمرکے 215,633 صحتمند بچے شامل تھے۔ مطالعے میں شامل 19 ممالک میں سے زیادہ تر کا تعلق ایشیا سے تھا۔اس مطالعے کے لیے منتخب کیے جانے کے وقت ان بچوں کی اوسط عمر ڈھائی سال تھی اور انھیں تقریباً ایک سال تک زیر مطالعہ رکھا گیا۔
یونیورسٹی آف اوکسفرڈ کے ڈیپارٹمنٹ آف سوشل پالیسی اینڈ انٹروینشن سے تعلق رکھنے والے اس مطالعے کے سربراہ مصنف، ڈاکٹر ایوان میو ولسن نے کہا،"ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک وٹامن اے کے دیگر ذرائع موجود نہ ہوں، متاثرہ بچوں کو وٹامن اے کے سپلیمنٹ دینے چاہییں۔ایک سال بعد سپلیمینٹ لینے والے بچوں میں اموات کی شرح ان بچوں سے کم تھی جنھیں نقلی دوا دی گئی۔ ہمارا تخمینہ ہے کہ وٹامن اے کی کمی کا شکار تمام بچوں کو یہ سپلیمینٹ دینے سے ہم سالانہ 600,000 بچوں کو موت سے بچا سکتے ہیں اور جراثیمی بیماریوں کے بے شمار واقعات کی روک تھام کرسکتے ہیں۔ وٹامن اے سپلیمینٹس کی تیاری اور ان کا استعمال بہت سستا اور موثر ہے"۔
انھوں نے مزید کہا،"ہمارا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ وٹامن اے سے متعلقہ مواد کا جائزہ نہ صرف کم لاگتی ہے بلکہ اخلاقی طور پر اہم ہے۔ وٹامن اے کے خلاف شائع ہونے والے اداریوں نے بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی ہے تاہم مجموعی شہادتوں سے اس بات میں کوئی شک نہیں رہتا کہ وٹامن اے کم عمر بچوں کی اموات کی روک تھام کے حوالے سے موثر ہے۔1999 سے 2004 کے درمیان کیے جانے والے اس سب سے بڑے تحقیقی مطالعے میں 1,000,000 بچوں کو وٹامن اے یا نقلی دوا دی گئی۔اس مطالعے کے آغا ز کے بعد سے اب تک صرف ایک اورنسبتاً چھوٹے تحقیقاتی مطالعے میں وٹامن اے اور بچوں کی اموات کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے"۔
آغا خان یونیورسٹی، پاکستان کے ڈویژن آف ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے چئیر پروفیسر ذو الفقار بھٹہ اس مطالعے کے سینیئراعزازی مصنف ہیں۔ انھوں نے کہا،"یہ مطالعہ اس با ت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے کہ وٹامن اے سپلیمنٹ پروگرام میں موثر اضافے کی ضرورت ہے۔ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرنی ہو گی کہ اس کے فوائد دیرپا ہوں اوریہ پروگرام دیگر قومی پروگراموں کی نگرانی میں ہو"۔
بصر ی اور مدافعتی نظاموں کے افعال معمول کے مطابق رکھنے کے لیے وٹامن اے ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا غذائی جزو ہے جو جسم خود پیدا نہیں کرتا لہٰذا غذا کے ذریعے اس کا حصول لازمی ہے۔وٹامن اے کی کمی کئی اقسام کے انفیکشنز کا باعث بنتی ہے جن میں ہیضہ، خسرہ، ملیریا اور نظام تنفس کے انفیکشنز شامل ہیں۔ یہ بیماریاں بچوں میں اموات کا اہم سبب ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے ایک حالیہ تخمینے کے مطابق پانچ سال سے کم عمر کے 190 ملین بچے وٹامن اے کی کمی کا شکار ہیں۔
وٹامن اے مختلف پودوں (مثلاً شکر قندی)، انڈوں اور دودھ سے بنی ہوئی مصنوعات میں پایا جاتا ہے۔ اس مطالعے کے مطابق مصنوعی وٹامن اے کی زیادہ مقدار عارضی ضمنی اثرات مثلاً قے کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم یہ ضمنی اثرات بہت کم کیسز میں سامنے آتے ہیں اور وٹامن اے کو مختصر دورانیے مثلاً چھ ماہ میں ایک مرتبہ لینا کسی خطرناک ضمنی اثر کا باعث نہیں بننا چاہیے۔
---------------------------------------------------------------------------------