ہیپاٹائٹس کی وباپر قابو :وقت کی اہم ضروت
پاکستان میں ہیپاٹائٹس کا مرض وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے اور ملک بھر میں اس وقت اندازاً 12ملین افراد ہیپاٹائٹس بی اور سی میں مبتلا ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تیزی سے پھیلتے ہوئے اس مرض سے متعلق آگاہی میں اضافہ کیا جائے اور اس پر قابو پانے کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے جائیں۔یہ بات ماہرین نے آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو)کے تحت ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقعے پر منعقد ہ سیمینار میں بتائی۔ رواں سال ہیپا ٹائٹس کے عالمی دن کا موضوع ہے، ’ہیپاٹائٹس ہر فرد کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے متعلق جانیے تا کہ آپ اس کا مقابلہ کر سکیں‘
۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ ہیپاٹائٹس کاعالمی دن دنیا بھر میں عالمی ادارہ صحت ( ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ۔ ڈبلیوایچ او) کی سرپرستی میں منایا جا رہا ہے۔ گذشتہ سال مئی 2010 میں ہونے والے صحت کے 63 ویں عالمی اجلاس (ورلڈ ہیلتھ اسمبلی)میں وائرس کے باعث پھیلنے والے اس مہلک مرض کے متعلق ایک قرارداد منظور کی گئی تھی جس میں عالمی سطح پر ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لیے کئی رخی لائحہ عمل اپنانے کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا ۔ اس قرارداد کے مطابق ہیپاٹائٹس سے متعلق آگاہی میں اضافہ؛ محفوظ انداز میں انجیکشن کااستعمال اور خون کا انتقال؛بروقت تشخیص اور اس مرض کے علاج کو کم خرچ اور قابل استطاعت بنانا اہم اقدامات ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) کے کنسلٹنٹ گیسٹرو اینٹیرولوجسٹ ڈاکٹر وسیم جعفری نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس کے پانچ وائرسز اے، بی، سی، ڈی اور ای میں ہیپاٹائٹس بی اور سی مہلک ترین ہیں اور جگر کے کینسر کے 78فیصد کیسز کا باعث ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی آلودہ خون اوراس کے آلودہ اجزاکے استعمال ، مختلف طبی پروسیجرز کے دوران جراثیم آلودہ سرنج کے استعمال یا انجیکشن کے ذریعے ادویات اور نشہ آور اشیا لینے سے پھیلتاہے۔ہیپاٹائٹس بی پیدائش کے وقت ماں سے بچے کو منتقل ہو سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ہیپاٹائٹس کے بالغ مریض کے کسی معمولی زخم کے ذریعے بھی بچے میں خاموشی سے منتقل ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر جعفری نے مزید کہا کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پھیلاؤ کی ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ صحت عامہ کے ماہرین اور طبی عملہ جراثیم سے پاک سرنج اور محفوظ خون کے انتقال کے اصولوں پر سختی سے کاربند نہیں رہتے۔ ہسپتالوں میں استعمال کیے جانے والے طبی آلات اورسامان کو محفوظ انداز میں تلف نہیں کیا جاتا جس سے ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اے کے یو ایچ کے کنسلٹنٹ گیسٹرو اینٹیرولوجسٹ ڈاکٹر رستم خان نے حاضرین کو بتایا کہ تر قی پذیر ممالک میں ہیپاٹائٹس اے اور ای کا مرض یکساں طور پر موجود ہے۔ہیپاٹائٹس کی یہ اقسام آلودہ غذا اور آلودہ پانی کے ذریعے منتقل ہوتی اور پھیلتی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس اے اور ای کے زیادہ ترکیسز گرمیوں اور بارش کے موسم کے دوران سامنے آتے ہیں۔خوش قسمتی سے یہ انفیکشنزچند ہفتوں میں خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں ما سوائے ہیپاٹائٹس ای کا شکار حاملہ خواتین کے جن میں اس انفیکشن کے خطرناک نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس کی ان پانچ اقسام میں ہیپاٹائٹس ڈی کی وجہ مختلف ترین ہے کیوں کہ یہ انفیکشن صرف ایسے افراد کو ہوتا ہے جن میں ہیپاٹائٹس بی کا وائرس موجود ہو۔ڈ
اکٹر رستم خان نے بچاؤ کی تدابیر کی اہمیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہیپاٹائٹس بی اورسی کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے عوام اور صحت عامہ کے شعبے کے افراد کو ان انفیکشنزکے خطرے اور بچاؤ کی تدابیر سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اہم اقدامات میں جراثیم سے پاک سرنج اور طبی آلات کا استعمال ؛ہیپاٹائٹس کے مرض میں مبتلا افراد کے ساتھ جنسی اختلاط سے گریز اورخون کے انتقال سے قبل خون اورخون کے اجزا کا مکمل معائنہ شامل ہیں۔ہیپاٹائٹس اے اور ای سے محفوظ رہنے کے لیے ابلا ہو اپانی پینا چاہیے اور اور بیت الخلا کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح دھونا چاہیے۔
اے کے یو ایچ کے کنسلٹنٹ گیسٹرو اینٹیرولوجسسٹ ڈاکٹر سعید حمید نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سے محفوظ رہنے کا سب سے بہتر طریقہ حفاظتی ٹیکے لگوانا ہے۔ہیپاٹائٹس اے اور بی کے حفاظتی ٹیکے بآسانی دستیاب ہیں۔یہ ٹیکے ان انفیکشنز سے بچاؤ کے لیے بے حد موثر ہیں تاہم ان کا درست اور بروقت استعمال عام طور پر نظر نہیں آتا۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اس کی وجہ آگاہی میں کمی اور علاج کے دیگر طریقوں مثلاً جھاڑپھونک اور حکیمی ادویات پر یقین ہے۔ان پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر حمید نے زور دیا کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی دونوں کے لیے موزوں علاج انٹر فیرون انجیکشنز اور منہ کے راستے لی جانے والی ادویات کی صورت میں موجود ہے۔ تاہم درست وقت پر علاج کا آغاز ان کے بہترین نتائج کے حصول کے لیے لازمی ہے۔انھوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ہیپاٹائٹس کا علاج ماہر ڈاکٹرز سے ہی کروانا چاہیے کیوں کہ ہیپاٹائٹس کی ادویات کے ضمنی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔
اے کے یو کی کنسلٹنٹ مائیکرو بائیولوجسٹ ڈاکٹر ارم خان نے ہیپاٹائٹس کی تشخیص اور علاج میں لیبارٹر ی کے کردار کی اہمیت کو واضح کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس مرض کی تشخیص اور مریض میں علاج کے بعد آنے والی تبدیلی کی جانچ کے لیے کئی ٹیسٹ اہم ہیں۔ ان میں جگر کے افعال کی جانچ کے لیے لیور فنکشن ٹیسٹس ؛ جگر کی حساسیت کی جانچ کے لیے معیاری سیرولوجیکل ٹیسٹس؛ اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے کیے جانے والے ٹیسٹس مثلاً پولی میریزچین ری ایکشن قابل ذکر ہیں۔بد قسمتی سے دیہی علاقوں میں ان ٹیسٹس کی سہولت دستیاب نہیں ہے اور وہاں کے باسیوں کو ان کے لیے شہروں کی جانب سفر کرنا پڑتا ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------