ٹی بی کا خاتمہ۔ وقت کی اہم ضرورت
تپ دق ایک ایسی قدیم بیماری ہے جو آج کل مکمل طور پر قابل علاج ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ٹی بی کے باعث کوئی موت واقع نہ ہو۔ 22مارچ کو ٹی بی کے عالمی دن کے موقعے پر ماہرین آغا خان یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔
اے کے یو کے سیکشن آف پلمونری اینڈ کریٹیکل کئیر میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر جاویدخان نے کہا،’پاکستان میں ٹی بی کے تقریباً 700,000مریض موجود ہیں اور اس تعداد میں ہر سال 400,000مریضوں کا اضافہ ہو جاتا ہے۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ہر سال ٹی بی کے باعث ہلاک ہونے والی خواتین کی تعداد ان خواتین سے زیادہ ہے جو دوران حمل اور زچگی ہلاک ہو جاتی ہیں‘۔ اگرٹی بی کے خاتمے کے لیے آج کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا تو دنیا بھر میں 40ملین افراد ٹی بی کا شکار ہو جائیں گے اور 2015تک کم از کم آٹھ ملین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔ انھوں نے مزید کہا، ’ہمیں آج ہی ٹی بی کے خاتمے کے لیے اقدامات کا آغاز کر دینا چاہیے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ٹی بی کے تمام مریض عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ DOTSپروگرام پر عمل کریں اور ٹی بی کی ادویات کا چھ ماہ کا مکمل کورس کریں‘۔
اے کے یو کے ڈیپارٹمنٹ آف پیتھالوجی اینڈ مائیکروبائیولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوثر جبیں نے کہا، ’ٹی بی کی تشخیص کا سب سے کم خرچ طریقہ مریض کے تھوک کا دو دن تک سادہ طبی معائنہ ہے ‘۔تاہم پاکستان میں بہت سے ڈاکٹرز مہنگے سیرولوجیکل ٹیسٹس تجویز کرتے ہیں جن کی افادیت تا حال مسلم نہیں۔انھوں نے یہ ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریز کے معیار کو بہتربنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اے کے یو کے سیکشن آف پلمونری اینڈ کریٹیکل کئیر میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر علی زبیری نے ڈاکٹر جبیں کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا،’صرف سینے کے ایکسرے سے ٹی بی کی تشخیص نہیں کی جا سکتی اور ان نتائج کی تصدیق کے لیے تھوک کا ٹیسٹ ضروری ہے‘۔
اے کے یو کے سیکشن آف پلمونری اینڈ کریٹیکل کئیر میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر محمد عرفان نے ٹی بی کے علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اور مریض کے درمیان گفتگو کی اہمیت واضح کی۔تپ دق کے علاج کے دوران یہ ضروری ہے کہ مریض کو مرض کی نوعیت، علاج کے دورانیے اور اس کے ممکنہ ضمنی اثرات سے آگاہ کیا جائے۔ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کرنا بہت ضروری ہے اور دوا چھوڑنے یا اس کی خوراک میں تبدیلی سے گریز کرنا چاہیے۔اگر دوا کا کورس مکمل نہ کیا جائے تو ٹی بی کے جراثیم(بیسیلائی) کی مزاحمت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور مرض ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ ۔ٹی بی(ایم ڈی آر۔ٹی بی)میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ایم ڈی آر ۔ٹی بی کے علاج میں زیادہ وقت صرف ہوتاہے اور ان کے لیے ایسی طاقتور ادویات استعمال کی جاتی ہیں جو مہنگی ہونے کے ساتھ ساتھ زیادہ ضمنی اثرات کی حامل ہوتی ہیں۔
ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز، کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نثار احمد راؤ نے بتایا کہ سرکاری ٹی بی کلینکس میں تمام مریضوں کا مفت علاج کیا جا تاہے۔
ٹی بی کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں اور نرسوں کو بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں ۔اے کے یو کے ڈیپارٹمنٹ آف میڈیسن کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر بشری جمیل نے احتیاطی اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ علاج کے آغاز کے بعد کم از کم دو ہفتے تک طبی عملے کو چہرے پر حفاظتی ماسک لگانا چاہیے۔
پروگرام کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن ہوا۔
---------------------------------------------------------------------------------