گردوں کی حفاظت کیجیے اور دل کو محفوظ رکھیے
گردوں کی صحت کا خیال رکھ کر ہم دل اور شریانوں کی بیماری کا خطرہ کم کر سکتے ہیں۔ سائز میں انسانی مٹھی جتنا یہ عضو جسم کوصحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ بات آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) میں 10مارچ کو منعقد کیے گئے گردوں کے عالمی دن کے موقعے پر ڈاکٹروں نے کہی۔
رواں برس گردوں کے عالمی دن کا موضوع تھا، ‘گردوں کی حفاظت کیجیے اور دل کو محفوظ رکھیے’۔ گردوں کی دائمی بیماری(کرانک کڈنی ڈیزیز: سی کے ڈی(دنیا بھر میں پایا جانے والا ایک عام طبی مسئلہ ہے۔اس سال کا موضوع سی کے ڈی اور دل اور شریانوں کی بیماری کے تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔اے کے یو کے کنسلٹنٹ نیفرولوجسٹ ڈاکٹر وقار کاشف نے کہا کہ سی کے ڈی خاموشی سے بڑھنے والا ایک ایسا مرض ہے جس میں گردے خون سے زہریلے اور فاضل مواد کو خارج کرنے کی صلاحیت بتدریج کھو دیتے ہیں۔ایسے افرادمیں سی کے ڈی کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں جو ذیا بیطس یا ہائی بلڈ پریشرمیں مبتلا ہوں؛ سگریٹ نوشی کرتے ہوں؛ مٹاپے کا شکار ہوں یا 40برس سے زائد عمر کے وہ افراد جن کے خاندان میں گردوں کی بیماری رہی ہو۔
سی کے ڈی کی تشخیص نہ ہونے کی صورت میں گردے بتدریج کمزور ہو جاتے ہیں اور بالآخر ناکارہ ہو جاتے ہیں اور ڈائی لیسس یا گردوں کی پیوند کاری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ سی کے ڈی کے باعث دل اور شریانوں کی بیماری کے خطرے میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔اے کے یو ایچ کے ڈیپارٹمنٹ آف نیفرولوجی کے سربراہ اور کنسلٹنٹ نیفرولوجسٹ ڈاکٹر اطہر حسین نے نشاندہی کی کہ باقاعدگی سے طبی معائنہ اور احتیاطی تدابیر کے ذریعے سی کے ڈی کی پیچیدگیوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔ تاہم سی کے ڈی کے تمام مریضوں کا جامع علاج ہونا چاہیے کیوں کہ ان میں دل اور شریانوں کی بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں سی کے ڈی کی اہم وجوہات میں ہائی بلڈ پریشر بھی شامل ہے۔پاکستان میں آج کل گردوں کا ڈائی لیسس کروانے والے ایک تہائی افراد وہ ہیں جن کا ہائی بلڈ پریشر طویل عرصے تک معمول کی سطح پر نہیں آ سکا۔مزید برآں وہ مریض جو ہائی بلڈ پریشر کے علاوہ ذیابیطس کا بھی شکار ہیں ان میں ذیابیطس کے باعث گردوں کی خرابی کے امکانات خطرناک حد تک زیادہ ہیں۔سی کے ڈی بڑھنے کے بعد بلڈ پریشر کوقابو میں رکھنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے اور اس مقصد کے لیے بعض اوقات مریضوں کو پانچ ،چھ مختلف ادویات استعمال کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
تاہم خون اور پیشاب کے سادہ ٹیسٹس کی مدد سے سی کے ڈی کی جلد تشخیص ممکن ہے۔اے کے یو ایچ کے کنسلٹنٹ نیفرولوجسٹ ڈاکٹر عبدالمعبود خلیل نے کہا کہ تشخیص ہونے کے بعد بہت سی احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں جن میں مثلاًخون میں شکر کی مقدار کو معمول کی سطح پر رکھنا، بلڈ پریشر چیک کروانا، سگریٹ نوشی ترک کرنا ، جسمانی سرگرمیوں میں اضافہ اور وزن میں کمی شامل ہیں۔بلڈ پریشر کو معمول کی سطح پر رکھنے میں کم نمک والی خوراک مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔
اے کے یو ایچ کی کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن ڈاکٹر عرشالوز رحمٰن نے بچوں میں گردوں کی بیماری پر بات کی۔انھوں نے کہا کہ گردوں میں پتھری اورپیشاب کی نالی کے انفیکشن کا بر وقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں گردوں کی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے سد باب کے لیے مقامی آبادی کی مدد سے ایسے پروگرام وضع کرنے کی ضرورت ہے جن میں بچوں کا بلڈ پریشر اور باڈی ماس انڈیکس)بی ایم آئی(چیک کیا جائے اور ڈپ اسٹک کے ذریعے پیشاب کا تجزیہ کیا جائے۔ان اقدامات کے ذریعے خطرے کا شکار بچوں کی خوراک اور طرز زندگی میں تبدیلی لا کر ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔
پاکستان میں گردوں کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس خاموش وبا پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات ناکافی ہیں۔ ان امراض کے علاج کے اخراجات سرکاری اداروں پر بوجھ اور بہت سے والدین کی استطاعت سے باہر ہیں۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ طویل المدتی علاج کے بجائے جلد تشخیص اور بچاؤ کی حکمت عملی اختیا ر کرنے کی ضرورت ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------