پاکستان ذیابیطس کے حوالے سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک
ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کے دس بڑے ممالک میں پاکستان ساتویں نمبر پر آتا ہے جبکہ 2030 تک اس فہرست میں پاکستان کا نمبر چوتھا ہوجائے گا۔آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) میں 14 نومبر 2010 کو منعقد کیے جانے والے ذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر ماہرین نے کہا کہ ذیابیطس کے بارے میں عوامی آگہی میں اضافہ کرنے کے لیے موثر پروگرامز تشکیل دینے کی فوری ضرورت ہے۔
ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 60 فیصد کیسز عموماً 40سال سے زائد عمر کے افراد میں سامنے آتے ہیں۔ذیابیطس کی روک تھام کرنے والے طریقوں کے بارے میں شعور و آگہی کے ذریعے اس خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔ وہ افراد جن میں ذیا بیطس کا خطرہ نسبتاً زیادہو سکتاہے، وہ ’اپنی چھان بین آپ اور ذیابیطس کے امکانات میں اضافہ کرنے والے عوامل کی شناخت کے ذریعے مرض کو جانچ سکتے ہیں ۔ موٹاپا(کمر کی گولائی کی پیمائش کے ذریعے مٹاپے کی جانچ)، خاندان کے دیگر افراد میں ذیابیطس کی موجودگی، دل اور شریانوں کی بیماری ، پہلے سے موجود گلوکوز کی عدم برداشت ، ہائی بلڈ پریشر اور ہائی کولیسٹرول وہ عوامل ہیں جو کسی فرد میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے امکانات میں اضافہ کردیتے ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) کے کنسلٹنٹ اینڈوکرینولوجسٹ اور ڈائیابیٹولوجسٹ ڈاکٹر قمر مسعود نے کہا کہ وہ افراد جو صحت مند طرز زندگی اپناتے ہیں؛ قد کی مناسبت سے جسمانی وزن برقرار رکھتے ہیں؛ صحت بخش خوراک استعمال کرتے ہیں اور باقاعدگی سے کم از کم 30منٹ ورزش کرتے ہیں ذیابیطس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اے کے یو ایچ کی ذیابیطس ایجوکیشن نرس طاہرہ اکبر علی نے اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ اگر آپ محسوس کریں کہ آپ میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ موجود ہو سکتا ہے تو اپنا ٹیسٹ ضرور کروائیں۔ مرض کی تشخیص کے بعد مریض کو ذیابیطس کے ماہر کے پاس ضرور جانا چاہیے تاکہ وہ ذاتی نگہداشت اور صحتمند اور پیچیدگیوں سے پاک زندگی کے بارے میں رہنمائی فراہم کرسکے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ذیابیطس میں اپنی دیکھ بھال بہت اہم ہے اور مریض کو HbA1c نامی خون کا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے۔ یہ ٹیسٹ ذیابیطس کی سطح چیک کرنے کے بہترین طریقوں میں سے ایک ہے اور پچھلے دو تین ماہ کے دوران مریض کی اوسط ذیابیطس ظاہر کرتا ہے۔
اے کے یو ایچ کے کنسلٹنٹ اینڈوکرینولوجسٹ اور ڈائیابیٹولوجسٹ ڈاکٹر عبدالجبار نے ذیابیطس پر بہتر انداز میں قابو پانے کے کئی طریقوں کی نشاندہی کی جن میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مخصوص خوراک،چاق و چوبند طرز زندگی، ادویات کا باقاعدگی سے استعمال اور خون میں موجود شکر کی باقاعدگی سے جانچ شامل ہیں۔ اگر خون میں شکر کی مقدار مستقل معمول کی سطح سے اوپر رہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
متوازن خوراک کی مدد سے ذیابیطس کو قابو میں رکھا جا سکتاہے۔ اس حوالے سے موزوں غذا کا انتخاب، مقدار اور اوقات کا متعین ہوناضروری ہے۔ اے کے یو ایچ کی کلینیکل نیوٹریشنسٹ سمیرا نسیم نے کہا کہ مریضوں کو متوازن اور صحت بخش غذا استعمال کرنی چاہیے جس میں دلیہ،پھل، سبزیاںاور وافر مقدار میں پانی کا استعمال شامل ہے۔ذیابیطس کے مریض کو چکنائی اور مٹھاس کی محدود مقدار استعمال کرنی چاہیے تاکہ خون میں شکر کی مقدار ایک خاص حد سے تجاوز نہ کرے۔
پروگرام کا اہم ترین پیغام یہ تھا،"ذیابیطس پر قابو پائیے۔۔۔ اس سے قبل کہ یہ آپ کی زندگی پر اثر انداز ہو"۔
---------------------------------------------------------------------------------