نرسیں اور دائیاں صحت عامہ کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں
کراچی، پاکستان
12 مئی، 2012
انٹرنیشنل نرسز ڈے اور انٹرنیشنل ڈے آف دی مڈوائف کے موقعے پر آغا خان یونیورسٹی کے اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری اور نرسنگ سروسز کی جانب سے ایک مشترکہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعے پر مقامی اور بین الاقوامی ماہرین نے کہا کہ نرسیں اور دائیاں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو کامیابی سے چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ان کو پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کرکے مریضوں کی معیاری دیکھ بھال یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
اس ایک روزہ تقریب میں اقوام متحدہ کے ملینیئم ڈیویلپمنٹ گولز (ایم ڈی جیز) 4 اور 5 کے حصول کے حوالے سے پاکستان میں نرسنگ کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔ پاکستان میں 170 ملین سے زائد آبادی کے لیے محض 73,244 نرسیں اور 27,153 دائیاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ہر سال ہر 100,000 خواتین میں سے 260 حمل یا زچگی کے دوران جاں بحق ہوجاتی ہیں جبکہ ہر 100,000 بچوں میں سے 72 زندگی کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے ڈین ڈاکٹر کیتھ کیش نے کہا، ”نرسیں اور دائیاں ان اعداد و شمار کو یکسر تبدیل کرسکتی ہیں اور اسی لیے آج کے دور میں تربیت یافتہ نرسوں اور ماہر دائیوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے“۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کو ایم ڈی جیز 4 اور 5 میں بیان کردہ بچوں کی اموات میں کمی اور ماں کی صحت میں بہتری کے اہداف حاصل کرنے ہیں تو تعلیم اور تربیت کے مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے نرسوں اور دائیوں کی صلاحیت سازی لازمی امر ہے۔ ڈاکٹر کیش کے مطابق ملک میں صحت عامہ کے نظام میں بہتری لانے کا یہ سب سے کم خرچ طریقہ ہے۔
انٹرنیشل کنفیڈریشن آف مڈوائفری کی صدر فرانسس ڈے۔ اسٹرک اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ انھوں نے کہا، ” ہر سال 800,000 بچے دوران پیدائش جاں بحق ہوجاتے ہیں جبکہ 3 ملین بچے زندگی کے پہلے مہینے میں انتقال کرجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ 7.6 ملین بچے 5 سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل موت کا شکار ہوجاتے ہیں“۔محترمہ ڈے۔ اسٹرک نے مزید کہا کہ دائیوں کی جانب سے موزوں دیکھ بھال کے ذریعے ان اموات میں کمی کی جاسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے ہر حاملہ خاتون خصوصاً غریب اور دیہی علاقوں میں مقیم خواتین تک دائیوں کی رسائی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا، ”حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ایم ڈی جیز 4 اور 5 کے حصول کا زیادہ موثر طریقہ ہے۔ دائیاں زندگیاں بچاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں دائیوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
میک ماسٹر یونیورسٹی سائٹ کے نرسنگ ہیلتھ سروسز ریسرچ یونٹ کی سائنٹیفک ڈائریکٹر ڈاکٹر اینڈریا باؤمین نے حاضرین سے مواصلاتی ذریعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”نرسیں صحت کی دیکھ بھال کے محاذ کا ہراول دستہ ہیں۔ یہ مریض کے بستر سے لے کرمقامی آبادیوں تک درست معلومات کی فراہمی کا کام انجام دیتی ہیں۔ ان کے فراہم کردہ اہم ثبوت کی مدد سے طبی طریقوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور دیکھ بھال کا معیار بہتر ہوجاتا ہے“۔
یونیورسٹی آف اوٹاوا کے اسکول آف نرسنگ کی پروفیسر ڈاکٹر نینسی ایڈورڈز نے بھی اس سیمینار سے مواصلاتی طریقے سے خطاب کیا ۔ انھوں نے دیگر مقررین سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ”بہتر اور معیاری علاج کے لیے ثبوت کا بروقت استعمال ضروری ہے تاکہ معالجاتی دیکھ بھال کے علاوہ صحت عامہ اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی لائی جاسکے“۔
آغا خان یونیورسٹی اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے ایم ایس سی این پروگرام کی ڈائریکٹر اور سیمینار کی کو چیئر ڈاکٹر فوزیہ علی نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے زور دیا کہ ملک میں نرسنگ کے طریقہ کار کے جائزے کے لیے مقامی طور پر تحقیق کا فروغ بہت اہم ہے۔ صحت عامہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد میں ثبوت کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی دیکھ بھال کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جانی چاہیے۔
٭ اس موضوع پر تبادلہ خیال کے لیے پروگرام کی کو چیئراور ڈائریکٹر ماسٹرز ان نرسنگ پروگرام، اے کے یو۔ ایس او این اے ایم ڈاکٹر فوزیہ علی اور نرسنگ مینیجر میڈیکل یونٹ، اے کے یو ایچ دولت ہیرانی سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
٭ مزید معلومات کے لیے فبھا پرویز سے فون نمبر +92 21 3486 2925 یا ای میل
fabeha.pervez@aku.edu پر رابطہ کریں۔
آغا خان یونیورسٹی
1983 میں چارٹر حاصل کرنے والی آغا خان یونیورسٹی ایک غیر سرکاری اور خودمختار یونیورسٹی ہے جو تحقیق، تدریس اور کمیونٹی سروس جیسے اقدامات کے ذریعے انسانی فلاح کو فروغ دے رہی ہے۔ معیار، رسائی، اثر اور مطابقت کے اصولوں پر مبنی اس یونیورسٹی کے کیمپس اور پروگرام جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں موجود ہیں۔یونیورسٹی تدریسی ہسپتال، فیکلٹیز آف ہیلتھ سائنسز بشمول نرسنگ اسکول اور میڈیکل کالج، انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ، ایگزامینیشن بورڈ اور انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف مسلم سویلائزیشنز کی سہولیات پیش کرتی ہے ۔ اپنی غیر متعصبانہ اور قابلیت پر مبنی داخلہ پالیسی کے ذریعے یونیورسٹی مستقبل کے لیے ایسے رہنما اور مفکر پیدا کررہی ہے جو اپنی خدماتی اخلاقیات اور صلاحیتوں کی مدد سے مقامی آبادی کو ان کے نہایت اہم مسائل حل کرنے میں مدد دیں گے۔
www.aku.edu ---------------------------------------------------------------------------------
نرسیں اور دائیاں صحت عامہ کے نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں
کراچی، پاکستان
12 مئی، 2012
انٹرنیشنل نرسز ڈے اور انٹرنیشنل ڈے آف دی مڈوائف کے موقعے پر آغا خان یونیورسٹی کے اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری اور نرسنگ سروسز کی جانب سے ایک مشترکہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعے پر مقامی اور بین الاقوامی ماہرین نے کہا کہ نرسیں اور دائیاں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو کامیابی سے چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ان کو پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع فراہم کرکے مریضوں کی معیاری دیکھ بھال یقینی بنائی جاسکتی ہے۔
اس ایک روزہ تقریب میں اقوام متحدہ کے ملینیئم ڈیویلپمنٹ گولز (ایم ڈی جیز) 4 اور 5 کے حصول کے حوالے سے پاکستان میں نرسنگ کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا۔ پاکستان میں 170 ملین سے زائد آبادی کے لیے محض 73,244 نرسیں اور 27,153 دائیاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ہر سال ہر 100,000 خواتین میں سے 260 حمل یا زچگی کے دوران جاں بحق ہوجاتی ہیں جبکہ ہر 100,000 بچوں میں سے 72 زندگی کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے ڈین ڈاکٹر کیتھ کیش نے کہا، ”نرسیں اور دائیاں ان اعداد و شمار کو یکسر تبدیل کرسکتی ہیں اور اسی لیے آج کے دور میں تربیت یافتہ نرسوں اور ماہر دائیوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے“۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کو ایم ڈی جیز 4 اور 5 میں بیان کردہ بچوں کی اموات میں کمی اور ماں کی صحت میں بہتری کے اہداف حاصل کرنے ہیں تو تعلیم اور تربیت کے مشترکہ لائحہ عمل کے ذریعے نرسوں اور دائیوں کی صلاحیت سازی لازمی امر ہے۔ ڈاکٹر کیش کے مطابق ملک میں صحت عامہ کے نظام میں بہتری لانے کا یہ سب سے کم خرچ طریقہ ہے۔
انٹرنیشل کنفیڈریشن آف مڈوائفری کی صدر فرانسس ڈے۔ اسٹرک اس تقریب کی مہمان خصوصی تھیں۔ انھوں نے کہا، ” ہر سال 800,000 بچے دوران پیدائش جاں بحق ہوجاتے ہیں جبکہ 3 ملین بچے زندگی کے پہلے مہینے میں انتقال کرجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ 7.6 ملین بچے 5 سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل موت کا شکار ہوجاتے ہیں“۔محترمہ ڈے۔ اسٹرک نے مزید کہا کہ دائیوں کی جانب سے موزوں دیکھ بھال کے ذریعے ان اموات میں کمی کی جاسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے ہر حاملہ خاتون خصوصاً غریب اور دیہی علاقوں میں مقیم خواتین تک دائیوں کی رسائی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا، ”حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ ایم ڈی جیز 4 اور 5 کے حصول کا زیادہ موثر طریقہ ہے۔ دائیاں زندگیاں بچاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں دائیوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔
میک ماسٹر یونیورسٹی سائٹ کے نرسنگ ہیلتھ سروسز ریسرچ یونٹ کی سائنٹیفک ڈائریکٹر ڈاکٹر اینڈریا باؤمین نے حاضرین سے مواصلاتی ذریعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”نرسیں صحت کی دیکھ بھال کے محاذ کا ہراول دستہ ہیں۔ یہ مریض کے بستر سے لے کرمقامی آبادیوں تک درست معلومات کی فراہمی کا کام انجام دیتی ہیں۔ ان کے فراہم کردہ اہم ثبوت کی مدد سے طبی طریقوں میں تبدیلی واقع ہوتی ہے اور دیکھ بھال کا معیار بہتر ہوجاتا ہے“۔
یونیورسٹی آف اوٹاوا کے اسکول آف نرسنگ کی پروفیسر ڈاکٹر نینسی ایڈورڈز نے بھی اس سیمینار سے مواصلاتی طریقے سے خطاب کیا ۔ انھوں نے دیگر مقررین سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ”بہتر اور معیاری علاج کے لیے ثبوت کا بروقت استعمال ضروری ہے تاکہ معالجاتی دیکھ بھال کے علاوہ صحت عامہ اور انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی لائی جاسکے“۔
آغا خان یونیورسٹی اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے ایم ایس سی این پروگرام کی ڈائریکٹر اور سیمینار کی کو چیئر ڈاکٹر فوزیہ علی نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے زور دیا کہ ملک میں نرسنگ کے طریقہ کار کے جائزے کے لیے مقامی طور پر تحقیق کا فروغ بہت اہم ہے۔ صحت عامہ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد میں ثبوت کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی دیکھ بھال کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جانی چاہیے۔
٭ اس موضوع پر تبادلہ خیال کے لیے پروگرام کی کو چیئراور ڈائریکٹر ماسٹرز ان نرسنگ پروگرام، اے کے یو۔ ایس او این اے ایم ڈاکٹر فوزیہ علی اور نرسنگ مینیجر میڈیکل یونٹ، اے کے یو ایچ دولت ہیرانی سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
٭ مزید معلومات کے لیے فبھا پرویز سے فون نمبر +92 21 3486 2925 یا ای میل
fabeha.pervez@aku.edu پر رابطہ کریں۔
آغا خان یونیورسٹی
1983 میں چارٹر حاصل کرنے والی آغا خان یونیورسٹی ایک غیر سرکاری اور خودمختار یونیورسٹی ہے جو تحقیق، تدریس اور کمیونٹی سروس جیسے اقدامات کے ذریعے انسانی فلاح کو فروغ دے رہی ہے۔ معیار، رسائی، اثر اور مطابقت کے اصولوں پر مبنی اس یونیورسٹی کے کیمپس اور پروگرام جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں موجود ہیں۔یونیورسٹی تدریسی ہسپتال، فیکلٹیز آف ہیلتھ سائنسز بشمول نرسنگ اسکول اور میڈیکل کالج، انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ، ایگزامینیشن بورڈ اور انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف مسلم سویلائزیشنز کی سہولیات پیش کرتی ہے ۔ اپنی غیر متعصبانہ اور قابلیت پر مبنی داخلہ پالیسی کے ذریعے یونیورسٹی مستقبل کے لیے ایسے رہنما اور مفکر پیدا کررہی ہے جو اپنی خدماتی اخلاقیات اور صلاحیتوں کی مدد سے مقامی آبادی کو ان کے نہایت اہم مسائل حل کرنے میں مدد دیں گے۔
www.aku.edu