نوعمر مریضہ کے لیے حیات نو
آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں بچوں میں آئی سی ڈی لگانے کاپہلاپروسیجر
پاکستان میں آئی سی ڈی لگانے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا کامیاب پروسیجر کیا گیا جس میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) کے ڈاکٹرز نے ایک چودہ سالہ بچی میں دل کی دھڑکن کی رفتار جانچنے کا آلہ لگایا۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی اس بچی کے دل میں لگایا جانے والا یہ آلہ امپلانٹیبل کارڈیوورٹر ڈی فبریلیٹر (آئی سی ڈی) کہلاتا ہے۔
نائلہ بگٹی کو پیدائشی طور پر کیو ٹی سنڈروم(QT syndrome)نامی مرض لاحق تھا۔یہ ایک ایساموروثی مسئلہ ہے جس کے باعث دل کا برقی نظام متاثر ہوتا ہے اور دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ تیز دھڑکن کے باعث بے ہوشی، مرگی یا اچانک دل بند ہونے کا خطر ہ ہوتا ہے۔ دل کا یہی عارضہ نائلہ کی تین بڑی بہنوں کے لیے مہلک ثابت ہوچکا ہے۔
دل کے امراض کے ماہر اور اس کیس کے نگران ڈاکٹر عامر حمید خان نے بتایا,” چونکہ نائلہ شدید خطرے کا شکار تھی اس لیے ہم نے اس میں سب سے چھوٹے سائز کا آئی سی ڈی لگانے کا فیصلہ کیا۔پروسیجر کے بعد نائلہ کی حالت بہتر ہوگئی اور آئی سی ڈی بالکل صحیح کام کررہا ہے۔ پاکستان میں پہلے بھی بالغ افراد میں آئی سی ڈی لگایا جاتا رہا ہے تاہم پہلی بار اتنے کم عمر مریض میں یہ آلہ لگایا گیا ہے“۔
آئی سی ڈی دل کی رفتار کو معمول پر رکھنے کا آلہ ہے جو اضافی خوبیوں کا حامل ہے اور بیٹری کی مدد سے کام کرتاہے۔ یہ ایسے مریضوں میں لگایا جاتا ہے جن میں دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے باعث اچانک موت کا خطرہ ہوتا ہے۔آئی سی ڈی دل کی رفتار میں ہونے والی بے قاعدگی کی نگرانی اور نشاندہی کرتا ہے اور دل کی رفتار بے قاعدہ ہونے کی صورت میں کم توانائی کی حامل دھڑکنیں پیدا کرتا ہے۔
---------------------------------------------------------------------------------