میڈیکل کالجز میں فراہم کیا جانے والا نصف سے زائدعلم پانچ برس میں فرسودہ ہوجاتا ہے
ڈاکٹروں کی مسلسل پیشہ ورانہ تعلیم مریضوں کے بہتر علاج کی ضامن ہے
آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو)میں 26 دسمبر 2011 کو کنٹینیوئنگ میڈیکل ایجوکیشن (سی ایم ای) کے سالانہ فورم کا انعقاد کیاجارہا ہے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اے کے یو کے ڈیپارٹمنٹ آف کنٹینیوئنگ میڈیکل ایجوکیشن کے ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر وسیم جعفری نے کہا،” ڈاکٹرز اور نرسز کے لیے طب کی جدید تعلیم سے آگاہ رہنا بہت ضروری ہے تاکہ وہ نئے رجحانات سے باخبر رہتے ہوئے مریضوں کا بہتر علاج اور دیکھ بھال کرسکیں“۔
سی ایم ای سے مراد ایسے تربیتی کورسز ہیں جن کے نصاب کا جدید ترین خطوط پر اعادہ کیا گیا ہو تاکہ طبی ماہرین اپنے شعبے کے نئے پہلوؤں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے اپنی مہارت اور علم میں اضافہ کرسکیں۔ صحت کی عالمی تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ایک بلین افراد صحت کی معیاری سہولیات سے محروم ہیں۔ طبی شعبے میں افرادی قوت کی کمی کے علاوہ تربیت، مہارت اور معالجاتی تجربے کے فقدان کی وجہ سے مقامی آبادی کی صحت سے متعلق ضروریات اکثر پوری نہیں ہوپاتیں۔
ماہرین صحت( جن میں کارل لنڈسے، جیمز موریسن اور ای جیمز کیلی شامل ہیں) کے مطابق میڈیکل کالجز میں فراہم کیا جانے والا نصف سے زائد علم پانچ برس میں فرسودہ ہوجاتا ہے لہٰذا یہ ضروری ہے کہ طبی ماہرین مستقل بنیادوں پر اپنے علم کی تجدید کرتے رہیں۔
پاکستان میں طلبا پانچ سالہ ایم بی بی ایس پروگرام کے بعد ایک سالہ انٹرن شپ مکمل کرتے ہیں اور اس کے بعد پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کاؤنسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے بحیثیت ڈاکٹر ان کا اندراج کیا جاتا ہے اور یوں ان ڈاکٹرز کے طریقہ کار اور تجویز کردہ ادویات کی بنیاد کئی سال پرانے علم پر ہوتی ہے۔ اگر طبی ماہرین مستقل بنیادوں پر نئی تحقیق سے بہرہ ور ہوتے رہیں اور موثر اور جدید ترین ادویات تجویز کریں تو ان مسائل سے بچا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر وسیم جعفری نے اس حوالے سے مزید کہا، ”طب کی تعلیم کو نئے خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ سی ایم ای پروگرامز ڈاکٹرز کی کارکردگی اور مریض کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب نہیں دیے جاتے۔ ان پروگرامز میں تربیتی نتائج اور کورس کے دورانیے کی بنیاد پر حاصل شدہ علم کی جانچ کی جاتی ہے جبکہ درحقیقت پیشہ ورانہ ترقی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی مہارت اور قابلیت کی بنیاد پر کارکردگی کو جانچا جانا چاہیے۔ لہٰذا اعلیٰ معیار اور بہتر نتائج کے حصول کے لیے سی ایم ای پروگرامز کو موزوں انداز میں ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے“۔
---------------------------------------------------------------------------------