آغا خان یونیورسٹی
فوری اشاعت کے لیے
آغا خان یونیورسٹی کا پچیسواں جلسہ تقسیم اسناد
17 نومبر، 2012
کراچی، پاکستان
رواں برس آغا خان یونیورسٹی(اے کے یو) کا جلسہ تقسیم اسناد خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یونیورسٹی کے پاکستان کیمپس کا یہ پچیسواں جلسہ تقسیم اسناد ہے جس میں 321 فارغ التحصیل طلبا کو اسناد عطا کی گئیں۔
تعلیم مکمل کرنے والے طلبا اور ان کے اہل خانہ کے چہروں پر مسر ت کے جذبات عیاں تھے۔2012 کی کلاس کے عرفان احمد صدیقی نے اس موقعے پر الوداعی تقریر کی اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ”مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میں ان افراد کے گروہ میں شامل ہورہا ہوں جنھوں نے خود کو وقار کے ساتھ اس پیشے کے اعلیٰ ترین اصولوں کے لیے وقف کردیا۔ اپنے علم، کلینیکل پریکٹس اور عوامی خدمت سے ہمارے پیشروؤں نے ایک ایسا اعلیٰ معیار تخلیق کیا ہے جس کی پاسداری ہم سب کو کرنی ہے“۔
اس جلسے میں انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ (آئی ای ڈی) کی جانب سے 1 طالبعلم کو پی ایچ ڈی جبکہ 31 طلبا کو ماسٹرآف ایجوکیشن کی اسناد عطا کی گئیں۔ آئی ای ڈی کے 10 طلبا کو ٹیچنگ انگلش ایز اے فارن لینگویج میں ایڈوانسڈ ڈپلومہ عطا کیا گیا۔
میڈیکل کالج کے 94 طلبا کو ڈاکٹر اور 7 طلبا کو ماسٹر آف سائنس کی اسناد عطا کی گئیں جن میں سے 3 طلبا کو ایپی ڈیمیولوجی اور بائیو اسٹیٹسٹکس کے شعبے میں، 4 طلبا کو ہیلتھ پالیسی اینڈ مینیجمنٹ میں جبکہ 20 طلبا کو ماسٹر آف بائیو ایتھکس کی اسناد عطا کی گئیں۔ 19 طلبا کو ایڈوانسڈ ڈپلومہ دئیے گئے ان میں سے 12 طلبا ہیومن ڈیویلپمنٹ اور 7 ہیلتھ پروفیشنز ایجوکیشن کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں۔
زیب اعجاز سعید اور ثناء اصغر علی حبیب کو بالترتیب میڈیکل کالج اور اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے بہترین گریجویٹس کا ایوارڈ دیا گیا ۔حاضرین نے تالیاں بجا کر ان کی کامیابیوں کا اعتراف کیا۔
اس سال اسکول آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری کے 140 طلبا فارغ التحصیل ہوئے جن میں 11 ماسٹر آف سائنس ان نرسنگ، 40 بیچلر آف سائنس ان نرسنگ ، 38 پوسٹ آر این بیچلر آف سائنس ان نرسنگ سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ 51 طلبا کو نرسنگ میں ڈپلومہ دیا گیا۔
اس تقریب کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر خزانہ محترم ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ تھے ۔اپنے خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ آغا خان یونیورسٹی معاشرے کے مختلف طبقات کو اعلیٰ تعلیم کے ثمرات سے مستفید ہونے کے مواقع فراہم کررہی ہے۔ انھوں نے کہا، ” اگر آپ فرد واحد ہیں تو خود کو تنہا نہ سمجھیں کیونکہ انسانی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جب کسی ایک فرد نے معاشرے کو سر تا پا تبدیل کردیا اور دنیا میں جینے کے ایسے نئے ڈھنگ متعارف کروائے جنھوں نے بالآخر لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا۔ اگر ہم عزم کرلیں تو تبدیلی لاسکتے ہیں بلکہ ہم میں سے ہر شخص تبدیلی لاسکتا ہے“۔
اے کے یو کے صدر فیروز رسول کی تقریر کا بنیادی خیال معیار کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔ انھوں نے کہا،”معیار کی جستجوخصوصاً اعلیٰ تعلیمی شعبے میں ہمارے لیے ہمیشہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔یہی وہ خصوصیت ہے جو ہمیں بلند نگاہی عطا کرتی ہے،ہماری کارکردگی کو بہترکرتی ہے اور معیار میں اضافے کا باعث ہے۔ یونیورسٹی کے چانسلر ہز ہائی نیس دی آغا خان کے مطابق، ’معیار کامیابی کی واحد ضمانت ہے“‘۔ صدر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ معیار ایک مخصوص سوچ، طرز فکر اور طرز عمل کانام ہے ۔درحقیقت ارتقائی عمل، بحرانی صورتحال یا مشکل حالات میں معیار کی پاسداری ہمارا اعتماد برقرار رکھتی ہے اور ہمیں استقامت دیتی ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو افراد، تجارت اور اداروں کو نہ صرف زندہ رکھتی ہے بلکہ انھیں ترقی دیتی ہے“۔
اس تقریب میں ڈاکٹر عبدالغفار بلو، ڈاکٹر صدرالدین پردھان اور ڈاکٹر ذوالفقار احمد بھٹہ کو اعزازات سے نوازا گیا۔
ڈاکٹر ذوالفقار احمد بھٹہ کو ایوارڈ آف ڈسٹنکشن (امتیازی اعزاز) عطا کیا گیا۔ ڈاکٹر بھٹہ نے پاکستان اور ترقی پذیر دنیا میں موجود بچوں کی صحت اور بقا کے حوالے سے درپیش مشکل ترین مسائل کے سادہ حل پیش کیے۔انھوں نے مستند تحقیق اور کمیونٹی سروس کے امتزاج سے بچوں کی صحت اور بقا کے لیے بہترین حکمت عملی اور تدابیر کی نشاندہی کی۔
ڈاکٹر عبدالغفار بلو کو یونیورسٹی کے لیے ان کی انتھک خدمات کے اعتراف کے طور پر پروفیسر ایمریٹس (تاحیات پروفیسر) کا اعزازی خطاب دیا گیا۔ اے کے یو میں اپنی مدت ملازمت کے دوران ڈاکٹر بلو نے پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے جرات مندانہ اصلاحات کا اطلاق کیا اور صحت عامہ کے ماہرین کے لیے جامع کنٹینئو ئنگ میڈیکل ایجوکیشن( مسلسل طبی تعلیم) کے مواقعے پیدا کیے۔تاہم ان کی خدمات صرف تعلیمی شعبے تک محدود نہیں رہیں۔ انھوں نے اندرون سندھ کے رہائشی بچوں تک صحت عامہ کی سہولیات تک رسائی میں اضافے کے لیے ہائیجین اینڈ نیوٹریشن ڈیویلپمنٹ سوسائٹی آف پاکستان (ہینڈز) قائم کی اور اس کے موجودہ سربراہ بھی ہیں۔
ڈاکٹر صدرالدین پردھان کو بھی پروفیسر ایمریٹس (تاحیات پروفیسر) کا اعزازی خطاب دیا گیا۔انھوں نے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ (آئی ای ڈی) جیسے متحرک ادارے کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہوئے ایک تصور کو حقیقت کار وپ دیا۔انھوں نے پاکستان میں اعلیٰ معیار کے ایسے ادارے کے قیام میں معاونت فراہم کی جو بہت جلد تعلیمی شعبے میں بہترین معیار کی جستجو کی علامت بن گیا۔
جلسہ تقسیم اسناد کی اس تقریب میں معززین کے علاوہ مہمانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔مہمان خصوصی ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اپنے وفد کے ہمراہ شریک ہوئے۔
مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:
٭ فبھا پرویز: فون نمبر +92 21 3486 2925موبائل نمبر 0300 824 8449 ای میل fabeha.pervez@aku.edu رسول سارنگ: 0301 825 8028 ردا ترابی: 0300 827 5338
آغا خان یونیورسٹی
1983 میں چارٹر حاصل کرنے والی آغا خان یونیورسٹی ایک غیر سرکاری اور خودمختار یونیورسٹی ہے جو تحقیق، تدریس اور کمیونٹی سروس جیسے اقدامات کے ذریعے انسانی فلاح کو فروغ دے رہی ہے۔ معیار، رسائی، اثر اور مطابقت کے اصولوں پر مبنی اس یونیورسٹی کے کیمپس اور پروگرام جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں موجود ہیں۔یونیورسٹی تدریسی ہسپتال، فیکلٹیز آف ہیلتھ سائنسز بشمول نرسنگ اسکول اور میڈیکل کالج، انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ، ایگزامینیشن بورڈ اور انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف مسلم سویلائزیشنز کی سہولیات پیش کرتی ہے ۔ اپنی غیر متعصبانہ اور قابلیت پر مبنی داخلہ پالیسی کے ذریعے یونیورسٹی مستقبل کے لیے ایسے رہنما اور مفکر پیدا کررہی ہے جو اپنی خدماتی اخلاقیات اور صلاحیتوں کی مدد سے مقامی آبادی کو ان کے نہایت اہم مسائل حل کرنے میں مدد دیں گے۔
www.aku.edu
---------------------------------------------------------------------------------