Urdu Version
 


31مارچ 2008

ٹی بی کے 2 فی صد مریضوں کو ریڑھ کی ہڈی کی ٹی بی ہوسکتی ہے

" ٹی بی کے مریضوں میں سے تقریباً 1 سے 2 فی صد کو ریڑھ کی ہڈی کی ٹی بی کا خطرہ ہے جبکہ ٹی بی دنیا میں چھوت سے لگنے والی سب سے عام بیماری ہے۔ " یہ بات کنسلٹنٹ نیوروسرجن ڈاکٹر گوہر جاوید نے حیدرآباد میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) کے تحت ' آثار، علامات اور علاج' پروگرام میں کہی۔

ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ، " یہ بیماری لوگوں کی زندگیوں پر اہم اثر ڈال سکتی ہے، رگوں کے دبنے سے درد، بے حسی اور سانس کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے ہڈیوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی کی ساخت متاثر ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں اعصاب کا فعل متاثر ہوتا ہے اور کچھ سالوں بعد فالج بھی ہوسکتا ہے چاہے ٹی بی صحیح بھی ہوگئی ہو۔

ریڑھ کی ہڈی کی ٹی بی جو پوٹس ڈزیز بھی کہلاتی ہے، عام طور پر مریضوں میں کمر کے درد، سوتے میں پسینہ آنے، بخار، وزن میں کمی اور بھوک نہ لگنے کا باعث بن سکتی ہے۔ مریضوں میں ریڑھ کی ہڈی پر ایک گچھا سا بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں سنسناہٹ، بے حسی اور ٹانگوں کے عضلات میں ایک عمومی کمزوری پیدا ہوسکتی ہے۔ اکثر درد کی وجہ سے مریض اکڑے ہوئے اور سیدھے انداز میں چلنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

چونکہ ریڑھ کی ہڈی کی ٹی بی بیکٹیریل انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے مناسب بچا ؤ سے اس کو کنٹرول کرنا ممکن ہے۔انھوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ، " اس بیماری سے بچا ؤ کا بہترین طریقہ ٹیوبر کلوسس کے پھیلاؤ کو کم یا ختم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیوبرکلوسس کو ٹیسٹ کرنا ایک اہم حفاظتی قدم ہے۔" بیماری کے علاج کے لیے کئی طریقے استعمال ہوتے ہیں۔ آپریشن ضروری ہوسکتا ہے خاص طور پر اس وقت جب ریڑھ کی ہڈی میں موجود پھوڑے سے مواد نکالنا ہو یا ریڑھ کی ہڈی کو مضبوط کرنا ہو۔

کمر کے نچلے حصے کا درد ایک عام مسئلہ ہے اور اس علامت کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن میں کسی وجہ کی پہچان نہیں کی جاسکتی حتیٰ کہ مکمل تشخیص کے بعد بھی یہ ممکن نہیں ہوتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ، '' کبھی کبھار درد کا سبب زیادہ استعمال، دباؤ یا چوٹ بھی ہوسکتی ہے۔ جیسے اکثر کھیلوں کے دوران، کام کرتے ہوئے یا کار ایکسیڈنٹ میں جھٹکا لگنے سے یا بھاری وزن اٹھانے سے لوگوں کی کمر میں تکلیف ہوسکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی عمر بھی اس میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔"

اچھی بات یہ ہے کہ کمر کے نچلے حصے کے زیادہ تر درد اپنی حفاظت آپ کے کچھ بنیادی طریقوں سے چند ہفتوں میں ختم ہوجاتے ہیں۔ تاہم اگر درد شدید ہو یا کچھ ہفتوں سے زیادہ عرصے تک برقرار رہے تو مریضوں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اگر شدید درد کسی ایسی وجہ سے ہو جو آپریشن سے ٹھیک ہوسکتا ہے تو اس تجویز کو بھی زیر غور لایا جاسکتا ہے۔

اے کے یو ایچ نے عوام سے رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ' آثار، علامات اور علاج ‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور یو اے ای میں اب تک 300سے زائد پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن سے اب تک 40,000 سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا پیشنٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اے کے یو ایچ میں زیر علاج 73 فی صد مریضوں کا تعلق درمیانے یا کم آمدنی والے طبقے سے ہے۔ 1986ءمیں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے۔

مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں:

رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 486 3920

حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 486 2927

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000

فیکس: 493 2095 ,493 4294
Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us