Urdu Version
 

30 جنوری 2008 ء

پاکستان میں 40 فی صد مرد اور 8 فی صد خواتین
سگریٹ نوشی کی عادی ہیں

” پاکستان میں چالیس فی صد مرد اور آٹھ فی صد خواتین سگریٹ نوشی کی عادی ہیں“۔ ان خیالات کا اظہار آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کے پلمونری میڈیسن سیکشن کے سربراہ اور کنسلٹنٹ پلمونولوجسٹ پروفیسر جاوید خان نے یونیورسٹی کے زیر اہتمام کنٹنیوڈ میڈیکل ایجوکیشن سیمینار میں ایک سروے سے حاصل ہونے والے نتائج کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ گوکہ دنیا کے دیگر ممالک میں تمباکو کا استعمال کم ہورہا ہے لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں اس کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ اگر ہم نے ضروری اقدامات نہیں کیے تو تمباکونوشی کے استعمال سے عالمی سطح پر ہونے والی حالیہ شرح اموات پچاس لاکھ سالانہ سے بڑھ کر 2025 ء تک ایک کروڑ سالانہ ہوجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہر سال تمباکونوشی سے ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔

کسی بھی ملک میں تمباکونوشی پر قابو پانے کا پہلا مرحلہ تمباکو اور اس کے نقصانات سے متعلق عوامی آگاہی میں اضافہ کرنا ہے تاہم بدقسمتی سے پاکستان میں سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کا مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ کا بجٹ حکومت پاکستان کے شعبہ صحت کے مکمل بجٹ سے کہیں زیادہ ہے۔

اے کے یو کے کسنلٹنٹ پلمونولوجسٹ ڈاکٹر محمد عرفان نے بتایا کہ سگریٹ نوشی کے اشتہارات کا بچوں اور نوجوانوں پر بہت گہرہ اثر ہوتا ہے۔ زیادہ تر ممالک میں سگریٹ نوشی کے اشتہارات پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے تاکہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر تمباکونوشی کا علاج کم کیا جاتاہے۔ سگریٹ نوشی چھوڑنے کے خواہش مند افراد کو جتنا ممکن ہوسکے مشاورت کے ساتھ ساتھ ادویات کا بھی استعمال کرنا چاہیے۔

اے کے یو کے کسنلٹنٹ پلمونولوجسٹ ڈاکٹر احمد سلیمان حق نے شرکاء کو ترک سگریٹ نوشی کے فوائد سے آگاہ کیا۔ سگریٹ نوشی چھوڑنے سے پھیپھڑوں کے سرطان کا خطرہ ، ہارٹ اٹیک اور دیگر جان لیوا بیماریوں کے خطرات کم ہوجاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی چھوڑنے سے معیار زندگی بھی بہتر ہوتا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرنثار راؤ نے بتایا کہ اگر طبی شواہد پرغورو خوض نہ کیا جائے تو چیسٹ ایکسرے اور ہسٹوپیتھالوجیکل نتائج معالجین کے لیے گمراہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ تمام لیبارٹری ٹیسٹ کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کرنا چاہیے کہ آیا وہ مریض کی علامات سے مطابقت رکھتے ہیں، اگر نہیں تو ٹیسٹ دہرانے چاہییں یا مزید ٹیسٹ تجویز کرنے چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”محض ایکسرے سے حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پرٹی بی کا علاج نہیں کرنا چاہیے“۔

اے کے یو کے کنسلٹنٹ امیونولوجسٹ ڈاکٹر آصف امام نے ریسپائریٹری الرجک ڈیزیزز کے عملی طریقہ علاج پر بات کی۔ انہوں نے دمے کے مختلف پہلوؤں خاص طور پر سندھ میں الرجک ریسپائریٹری ڈیزیز سے ہونے والے نقصانات کا ذکر کیا۔

اے کے یو باقاعدگی سے کنٹینیوڈ میڈیکل ایجوکیشن کے سیمینار اور ورکشاپس منعقد کرتی ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد بنیادی دیکھ بھال فراہم کرنے والے ڈاکٹروں اور ماہرین کو درپیش طبی مسائل کے انتظام سے متعلق تازہ ترین اور عملی معلومات فراہم کرنا ہے ۔


مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں :

رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 4863920 ،

سید نوید رحمان ، سینئر میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862931 ،

حس ّ ان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862927

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی

اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000

فیکس: 4932095 ، 4934294

 

 

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us