Urdu Version
 

25 جنوری 2008 ء

 

پتے کی پتھری کے 66 فی صد مریضوں میں
اس مرض کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں

” ہماری آبادی کے تقریباً 10 سے 20 فی صد لوگ پتے کی پتھری کی شکایت میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ گیسٹرواینٹیرولوجیکل امراض کے باعث ہسپتالوں میں داخلے کی سب سےعام وجہ ہے‘‘،ان خیالات کا اظہار آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کے کنسلٹنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر رضوان خان نے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) کراچی میں منعقد ہونے والے 'آثار، علامات اور علاج‘ کے تحت آگاہی کے ایک پروگرام میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پتے کی پتھری کے تقریباً دو تہائی مریضوں میں کوئی علامات نہیں ہوتی جسے عام طور پر' خاموش پتھری‘ کہتے ہیں۔

لیپرواسکوپک کولی سسٹکٹومی پتے کی پتھری کے علاج کا بہترین طریقہ ہے۔ اس طریقہ علاج کے فوائد میں چھوٹا زخم، کم درد، ہسپتال سے جلد فراغت، منہ سے خوراک جلد لینا اور روزمرہ معمولات کی جلد بحالی ، اور ظاہری حالت کی جلد بحالی شامل ہیں۔ زیادہ تر مریض لیپرواسکوپک سرجری کے بعد اگلی صبح گھر واپس چلے جاتے ہیں اور ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ پتھری کی وجہ سے پتے کو نکال دینے سے صحت اور غذائی عادات پر کسی قسم کے طویل المیعاد نقصانات نہیں ہوتے ہیں۔

اگر پتھریاں پتے کی نالی میں پہنچ جائیں تو شدید قسم کی پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہیں اور فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقام پر پتھریوں کوعموماً اینڈواسکوپک طریقہ علاج کی مدد سے ختم کیا جاسکتا ہے اور ناکامی کی صورت میں اوپن سرجری کی مدد سے نکالنا پڑتا ہے۔

اے کے یو کے کنسلٹنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر تابش چاولہ نے پیٹ کے شدید درد کی عام وجوہات بتائیں۔ ہیلی کوبیکٹر گیسٹرائٹس معدے کے انفیکشن کی بنیادی قسم ہے اور یہ شدید گیسٹرائٹس کی سب سے زیادہ عام وجہ ہے۔ پیپ ٹک السر ایک ایسی عام تکلیف ہے جو لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس مرض کا باعث بننے والے سب سے اہم عوامل میں ایچ پائیلوری، نان اسٹیر آئیڈل اینٹی انفلے میٹری ڈرگز (این ایس اے آئی ڈی ) ، تیزابیت اور پیپ سن شامل ہیں۔ دیگر اہم عوامل میں تمباکونوشی، ایتھینال، بائل ایسڈس، ایس پرین، اسٹیرآئیدز اور ذہنی تناؤ شامل ہیں۔

شدید پیلوک پین کو غلط طور پر سمجھا جاتا ہے اور نتیجتاً اس کی ناقص دیکھ بھال ہوتی ہے۔ اس مرض کی بہترین دیکھ بھال کثیرالجہتی طریقہ علاج سے ممکن ہے۔ ایسے مریضوں کی ایک بڑی تعداد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتی ہے جس میں پتے یا آنتوں کی بیماری،جنسی غیر فعالی اور دیگر باقاعدہ یا پیدائشی علامات شامل ہیں۔ اس مرض کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل بھی موجود ہوسکتے ہیں مثلاً ڈپریشن، اضطراب اور منشیات کی عادت وغیرہ۔ ایریٹیبل باول سنڈروم (آئی بی ایس) ایسی بیماری ہے جس کا تعلق ریشے والی غذا کے کم استعمال، قبض اور موٹاپے جیسے مسائل سے ہے۔

اے کو یو کے کنسلٹنٹ جنرل سرجن اور جنرل سرجری سیکشن کے سربراہ ڈاکٹر کے ایم انعام پال نے کہا کہ ہرنیا سے مراد کسی عضو کا خلاف معمول بڑھ جانا ہے جس میں یہ اپنے معینہ خانے کی دیواروں سے باہر نکل آتا ہے۔ ہرنیا جسم کے مختلف حصوں میں ہو سکتا ہے لیکن زیادہ تر یہ شکم کے اگلے حصے کو متاثر کرتا ہے۔ اس مرض میں عموماً سوجن ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ درد اور بے آرامی بڑھ جاتی ہے۔ اگر ہرنیا متاثرہ عضو میں پھنس جائے تو ایک ایمرجنسی جراحی کی شکل اختیار کرسکتا ہے اورجان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بن سکتاہے۔ اس لیے ہرنیا کے مرض کا علاج صورت حال کے سنگین ہونے سے پہلے کرنا چاہیے جب کامیابی کے امکانات زیادہ اور خطرہ کم ہوتا ہے۔

اے کے یو ایچ عوامی رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ' آثار، علامات اورعلاج' کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ ، نوابشاہ اور یو اے ای میں 250 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کرچکا ہے جن سے اب تک 50 ہزار سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اے کے یو ایچ کا پیشینٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ 1986ء میں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 1.6 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی جاچکی ہے۔

 

مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں :

رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 4863920 ،

سید نوید رحمان ، سینئر میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862931 ،

حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862927

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی

اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000

فیکس: 4932095, 4934294

 

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us