Urdu Version
 


20 مارچ 2008

دنیا بھر میں متاثرہ خون کا انتقال 8 سے 16 ملین افراد میں

ہیپاٹائٹس بی وائرس کے انفیکشن کا باعث بنتا ہے

دنیا بھر میں متاثرہ خون کے انتقال کی وجہ سے ایک اندازے کے مطابق سالانہ 8 سے 16 ملین افراد ہیپاٹائٹس بی وائرس اور 2.3 سے 5 ملین ہیپاٹائٹس سی انفیکشن سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایچ آئی وی کے پانچ سے دس فیصد کیسز میں انفیکشن کی ترسیل متاثرہ خون یا خون کے متاثرہ اجزا کے انتقال کی وجہ سے ہوتی ہے۔ خون کا کوئی متبادل نہیں اور جدید معاشرہ انسانوں کے عطیہ کردہ خون پر انحصار کرتا ہے۔

" پاکستان میں بلڈ بینک کے نظام کا زیادہ تر انحصار ایسے عطیات پر ہے جو پیشہ ورانہ بنیاد پر خون دینے والوں سے حاصل ہوتا ہے۔ کئی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ افراد بے حد غیر محفوظ ہوتے ہیں۔" یہ بات کنسلٹنٹ ہیماٹولوجسٹ اور اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ معز نے آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) میں کہی۔ وہ یونیورسٹی میں '' انتقال خون کے عام مسائل" پر ایک سیمینار سے خطاب کررہی تھیں۔

ڈاکٹر معز نے خبردار کیا کہ رضاکار اور خاندان کے افراد کے برعکس پیشہ ورانہ طور پر خون دینے والے افراد ایسے ماحول سے آتے ہیں جہاں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس عام ہے۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کے کمپیوٹرائزڈ بلڈ بینکنگ سسٹم کے تحت ہر رضاکار سے مکمل پوچھ گچھ کی جاتی ہے اور صرف رضاکار یا خاندان کے افراد سے ہی خون لیا جاتا ہے۔ ہسپتال کی پالیسیاں عطیہ دہندہ کی حفاظت اور عطیہ وصول کرنے والے کے مکمل تحفظ کی یقین دہانی کرتی ہیں۔ ایچ آئی وی، سفلس، ہیپاٹائٹس بی اور سی اور ملیریا کی نشاندہی کے لیے خون کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ روزہ دار افراد روزے کے دوران خون دینے سے پرہیز کریں۔

' خون اور خون کے اجزا کا سوچ سمجھ کر اور محفوظ استعمال' کے موضوع پر اے کے یو کی سینیئر انسٹرکٹر اور کنسلٹنٹ ڈاکٹر صفورہ خالد نے کہا کہ بلڈ کمپوننٹ تھیراپی مریض کو فائدے کے ساتھ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ اچھی کلینیکل پریکٹس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اس تھیراپی سے متعلقہ فوائد اور خطرات کو سمجھا جائے اور انتقال خون صرف اس صورت میں کیا جائے جب متوقع فوائد ممکنہ خطرات سے زیادہ ہوں۔ خون کی فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے ایک کثیرالجہتی عمل کی ضرورت ہے جس کے تحت عطیات دینے والوں کا چنا ؤ بہت چھان بین کے بعد کیا جائے اور محفوظ خون کی ضرورت پر عطیہ دہندگان اور عام افراد کی معلومات میں اضافہ کیا جائے۔

'بلڈ ٹرانسفیوژن ری ایکشنز کی پیچیدگیاں اور دیکھ بھال' پر اے کے یو کے اسسٹنٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ ہیماٹولوجسٹ ڈاکٹر محمد عثمان شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خون کے کسی بھی جزو سے نقصان دہ ری ایکشنز ہوسکتے ہیں۔

اے کے یو کے اسسٹنٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر تابش چاولہ نے 'میکسیمم سرجیکل بلڈ آرڈر شیڈیول (ایم ایس بی او ایس)' کا تعارف پیش کیا۔ ایم ایس بی او ایس خون کے زیادہ سے زیادہ یونٹ کو آپریشن سے قبل کراس میچ کرنے کی تجویز دے کر، بار بار کیے جانے والے ایلیکٹیو سرجیکل پروسیجرز کے لیے رہنما ہدایات فراہم کرتا ہے۔ اس پرعملدرآمد سے عالمی سطح پر براہ راست اور بالواسطہ اخراجات میں قابل ذکر کمی آئی ہے۔ بلڈ ٹرانسفیوژن سروسز میں معیار برقرار رکھنے کے حوالے سے بحیثیت مجموعی یہ ایک موثر طریقہ بھی ثابت ہوا ہے۔

معالجین اور ان کے مریضوں کے فائدے کے لیے اے کے یو باقاعدگی کے ساتھ کنٹینیوئنگ میڈیکل ایجوکیشن سیمینار اور ورکشاپس کا انعقاد کرتی ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد ابتدائی دیکھ بھال فراہم کرنے والے ڈاکٹروں اور ماہرین امراض کو ان طبی مسائل پر تازہ ترین عملی معلومات فراہم کرنا ہے جن کا انھیں اکثر سامنا رہتا ہے۔

مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں:

رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 486 3920

حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 486 2927

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500، کراچی 74000

فیکس: 2095 493, 4294 493

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us