Urdu Version
 

جمعرات 17 جنوری 2008 ء

 

ماؤں اور بچوں کی کم خوراکی بچوں کی تین چوتھائی سے زائد اموات اور عالمی سطح پر
گیارہ فی صد بیماریوں کی وجہ

دنیا بھر میں بچوں کی تین چوتھائی سے زائد اموات اور گیارہ فی صد بیماریوں کا سبب ماؤں اور بچوں میں غذائیت کی کمی ہے۔ یہ اور اس جیسے دیگر چونکادینے والے اعدادوشمار جان ہاپکنز اسکول آف پبلک ہیلتھ ، بالٹی مور، ایم ڈی، یو ایس اے کے پروفیسر رابرٹ بلیک اور آغا خان یونیورسٹی، کراچی، پاکستان کے شعبہ پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ کے پروفیسر ذوالفقار بھٹا اور ان کے دیگر ساتھیوں کی تحقیقات کے نتیجے میں حاصل ہوئے ہیں۔ اس ٹیم نے لینسیٹ انڈر نیوٹریشن سیریز کے تحت یہ پہلا مقالہ تحریر کیا۔

مصنفین کا کہنا ہے کہ " ماؤں اور بچوں میں غذائیت کی کمی کا بڑا شکار کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک ہوتے ہیں جس کا نتیجہ اموات اور بیماریوں میں قابل ذکر اضافے کی صورت میں نکلتا ہے"۔ اس حالت کی ایک شکل تو یہ ہوسکتی ہے کہ غذائیت کی کمی کی وجہ سے نشوونما میں کمی، کمزوری، ضروری وٹامن اور معدنیات کی کمی ہوجائے اور دوسری شکل ناقص غذائیت کی وجہ سے ہونے والا موٹاپا یا کچھ مخصوص غذائی اجزا کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہے۔

انھوں نے تخمینہ لگایا کہ نشوونما میں کمی، شدید کمزوری اور انٹرایوٹرائن گروتھ ریسٹرکشن مجموعی طور پر پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 22 لاکھ اموات (2005) اور اکیس فی صد ڈس ایبیلیٹی ایڈجسٹڈ لائف ایئرز (ڈی اے ایل وائز) کا سبب بنتی ہیں۔ مائیکرو نیوٹرینئنٹس کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وٹامن A اور زنک کی کمی سے ہونے والی بیماریوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور اندازہ لگایا جاتا ہے ک یہ بیماریاں 2005 میں بالترتیب 6 اور 4 لاکھ اموات کا باعث بنیں جبکہ بچپن میں ہونے والے ڈی اے ایل وائز کی مجموعی طور پر 9 فی صد تعداد کا بھی سبب بنیں۔ آئیوڈین اور آئرن کی کمی سے ہونے والی بیماریوں کی شرح کم ہے شاید اس کی وجہ انٹروینشن پروگرام ہیں تاہم بیماریوں کو مزید کم کرنے کے لیے مستقل کوششوں کی ضرورت ہے۔ اس مقالے میں بریسٹ فیڈنگ کی کمی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا یہ عمل پانچ سال سے کم عمر چودہ لاکھ بچوں کی اموات اور چوالیس لاکھ ڈی اے ایل وائز کا ذمہ دار ہے۔

غذائی اجزا سے وابستہ ان عوامل کا تجزیہ کرنے سےمصنفین کو اندازہ ہوا کہ مجموعی طور پر یہ تمام عوامل دنیا بھر میں بچوں کی پینتیس فی صد اموات اور گیارہ فی صد بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ مصنفین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ، " غذائیت سے وابستہ ان عوامل کی بنا پر بڑے پیمانے پرہونے والی اموات اور بیماریوں کی وجہ سے فوری اقدامات کرنے بہت ضروری ہیں تاکہ ان کی تعداد کم کرکے ان کے نتائج کو تبدیل کیا جاسکے۔"

مصنفین نے ان پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی جہاں مزید تحقیق کی ضرورت ہے مثلاً غذائیت کا تعین کرنے والے عناصر اور غذائیت کے معیار کو جانچنے کےطریقے وضع کرنا، لوگوں میں مائیکرونیوٹریئنٹس (وٹامن اے، آئرن، زنک) کی کمی، ایچ آئی وی / ایڈز، ملیریا، ٹیوبرکلوسس اور دیگر انفیکشن سے پھیلنے والی بیماریوں پرغذائی کمی کے اثرات، دفاعی نظام، دماغی نشوونما اور کوگنیٹیو صلاحیت پر غذائی کمی کے اثرات، مائیکرو نیوٹریئنٹس کی تبدیلی اور اموات اور بیماریوں پر اس کے اثرات اور جینن اور نوزائدہ بچوں کی نشوونما کے بین الااقوامی معیار کو بلند کرنا ہے۔

 

پروفیسر ذوالفقار بھٹا، پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ ، آغا خان یونیورسٹی، کراچی، پاکستان
فون: 92 21 4864782, 92 300 823 6813
ای میل: zulfiqar.bhutta@aku.edu

 

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us