Urdu Version
 

جمعرات 17 جنوری 2008 ء

 

ماں اور بچے کو مناسب غذائیت کی فراہمی غریب آبادیوں میں بچوں کی ایک چوتھائی اموات روک سکتی ہے

ماں اور بچے کی غذائیت کو بہتر بنانے کے موجودہ طریقوں کا نفاذ ناقص غذاکے مسائل کا شکار دنیا بھر کے 36 ممالک میں بچوں کی 25 فی صد اموات کو روک سکتا ہے۔ ماں کا دودھ پلانے کی تجویز اور وٹامن اے میں اضافہ کرنا وہ موجودہ غذائی حکمت عملیاں ہیں جن پر عمل کرکے بچوں کی اموات پربہت حد تک قابو پایا جاسکتا ہے۔ یہ نتیجے آغا خان یونیورسٹی کراچی ،پاکستان کے پیڈیاٹرکس اورچائلڈ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر ذوالفقار بھٹا اور لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، برطانیہ کے پروفیسر سائمن کوزنز جو ' دی لین سٹ انڈر نیوٹریشن ‘ سیریز کے تیسرے مقالے کے مصنفین ہیں، نے اخذ کیے ہیں۔

مصنفین نے ماں کا دودھ پلانے کے رجحان میں اضافے کے طریقوں ؛ اضافی غذائی ضرورتوں کو غذائی سپلیمنٹس کے ساتھ یا ان کے بغیر پورا کرنے کی حکمت عملیوں ؛ اضافی مائیکرونیوٹریئنٹس؛ گھرانے اور آبادی کی غذائیت سے متعلق عام امدادی حکمت عملیوں اور امراض میں کمی کی حکمت عملیوں مثلا ً کھانے سے پہلے ہاتھ دھونے کی ترغیب اورحمل کے دوران ملیریاسے بچاؤ وغیرہ کا جائزہ لیا۔انہوں نے یہ مطالعہ کیا کہ کس طرح یہ عوامل بچوں کی نشوونما اور موت کے خطرے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ان آبادیوں میں جہاں مناسب غذا موجود ہے ، اضافی خوراک کی تعلیم کے نتیجے میں عمر کی مناسبت سے قد کے Z اسکور میں 0.25 اسٹینڈرڈ ڈیوی ایشن (SDs) اضافہ ہوا جبکہ ناکافی غذا والی آبادیوں میں غذائی سپلیمنٹس کے ساتھ اس اسکور میں 0.41 اسٹینڈرڈ ڈیوی ایشن (SDs) کااضافہ ہوا۔

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی معلوم کیا کہ غذائیت کی شدیدکمی [سیوئیر ایکیوٹ مال نیوٹریشن(ایس اے ایم)] کی صورت میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کے جاری کردہ اصولوں کے تحت دیکھ بھال کے ذریعے اس ناگہانی حالت کو 55 فی صد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ہسپتال میں داخلے کی ضرورت ہوگی۔ لوگوں کے تعاون پر مبنی کم درجے کی ایس اے ایم کی دیکھ بھال کے طریقے جس میں استعمال کے لیے تیار شدہ دافع امراض خوراک استعمال کی جاتی ہے ، میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ اموات کی شرح کو خاطر خواہ حد تک کم کرسکتا ہے اور وسیع پیمانے پر اس طریقے کا نفاذ نسبتا ً آسان ہوتا ہے۔ حاملہ خواتین میں آئرن فولیٹ کی اضافی خوراک ان کے خون میں ہیموگلوبن کی سطح کو g/L 12 تک بڑھا دیتی ہے جس کے نتیجے میں خواتین میں خون کے اخراج کی وجہ سے موت کاخدشہ کم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ملٹی پل مائیکرو نیوٹری اینٹس کا استعمال پیدائش کے وقت بچے کے وزن میں کمی کے خطرے کو 16 فی صد تک کم کردیتا ہے۔ تاہم مصنفین نے یہ بات محسوس کی کہ ماؤں کی غذائیت سے متعلق علاج کے طریقوں کا جائزہ لینے کے لیے بڑے پیمانے پرمزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ نوزائیدہ اور شیرخوار بچوں کے لیے اضافی وٹامن اے دینے کی تجویز دی گئی ہے اسی طرح احتیاطی طور پر زنک سپلیمنٹس، ملیریا سے پاک مخصوص علاقوں میںآئرن سپلیمنٹس اور عمومی طور پر آئیوڈین والے نمک کے استعمال کی تجویز دی گئی ہے۔

غذائیت سے متعلق علاج کے ان طریقوں کے اثرات کے نمونوں کی جانچ پڑتال سے مصنفین نے اندازہ لگایا کہ اگر ان طریقوں کو دنیا بھر کے سب سے زیادہ غذائی کمی کا شکار 36 ممالک میں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے تو اس کے نتیجے میں پیدائش سے 36 مہینوں کے دوران ہونے والی اموات کی شرح کو 25 فی صد تک کم کیا جاسکتا ہے ، 36 مہینوں تک پہنچ کر نشوونما رک جانے میں ایک تہائی حد تک اور محدود نشوونما کے سبب ہونے والی معذوری، سیوئیر ویسٹنگ، انٹرا یوٹیرائن گروتھ ریسٹرکشن اور دیگر مائیکرو نیوٹری اینٹس کی کمی کوتقریبا ً 25 فی صد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

تاہم مصنفین نے یہ بھی کہا کہ غذائیت سے متعلق تمام حکمت عملیاں بذات خود کافی نہیں ۔ انہوں نے کہا: ' گوکہ موجودہ طریقہ علاج مختصر مدت کے لیے واضح فرق پیدا کرسکتے ہیں لیکن نشوونما میں کمی کے مسئلے کے خاتمے کے لیے تعلیم کے معیار اورخاندان کے معیار کو بہتر اور خواتین کو بااختیار کرنے کے لیے طویل المعیاد سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ‘ ۔

آخر میں انہوں نے کہا: ' ماں اور بچے کی غذائی قلت پر مسلسل توجہ دینا بیشتر ملینیم ڈیولپمنٹ گول کی تکمیل کے لیے ضروری ہے اور اسے عالمی اورملکی سطح پر ترجیح دینا چاہیے۔ غذائیت کی شدید کمی کا شکار ممالک کو بہر صورت یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ انہیں کس طریقہ علاج کو ترجیح دینی ہوگی اور پھر اس پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جاسکے۔ ہم نے غذائیت کو بہتر بنانے کے طریقوں کی افادیت کی مثالیں پیش کی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جن ممالک کوغذائیت کی قلت کا شدید مسئلہ ہے انہیں اس سے نمٹنے کے لیے تکنیکی مہارت اور سیاسی عزم کا اظہار کرنا چاہیے ‘ ۔

پروفیسر ذوالفقار بھٹا، ڈیپارٹمنٹ آف پیڈیاٹرکس اینڈ چائلڈ ہیلتھ، آغا خان یونیورسٹی ، کراچی، پاکستان
فون: 4782 486 21 92+/6813 823 300 92+
ای میل: zulfiqar.bhutta@aku.edu

پروفیسر سائمن کوزنز، لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، یو کے
فون: 2422 7927 20 44+
ای میل: simon.cousens@lshtm.ac.uk

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us