Urdu Version
 


بتاریخ : 16 مئی 2008

ہڈیوں کے زیادہ تر مسائل کا آغاز بچپن میں ہوتا ہے

فوری پہچان اور علاج درستگی میں مددگار ثابت ہوتاہے

"بالغوں میں ہونے والے متعدد آرتھوپیڈک مسائل کا تعلق در اصل بچوں کی نشوونما کے ابتدائی دور سے ہوتا ہے، جب ان کو درست کرنا بھی نسبتاً آسان ہوتا ہے"۔ یہ بات ڈاکٹر شہریار نوردین، کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن نے آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) ، کراچی کے زیر اہتمام اسٹیڈیم روڈ کیمپس میں ہڈیوں اور جوڑوں کا دن مناتے ہوئے کہی جس کا مقصد ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل کے بارے میں آگہی میں اضافہ کرنا تھا۔ بچے ہڈیوں اور جوڑوں کی بیماریوں اور خرابیوں مثلاً کولھے کی ہڈی کا اپنی جگہ سے ہٹ جانا (ڈویلپمنٹل ڈسپلیسیا آف دی ہپ: ڈی ڈی ایچ)، پیروں میں مطابقت نہ ہونا، خمیدہ ٹانگیں اور بچوں میں لنگڑاہٹ سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے ان مسائل کے فوری علاج پرزوردیا۔ مثال کے طور پر اگر ڈی ڈی ایچ کی جلد پہچان ہوجائے تو کامیابی کے ساتھ درستگی کے امکانات 95 فی صد ہوسکتے ہیں۔

اے کے یو ایچ کے شعبہ سرجری کے دوسرے کنسلٹنٹ آرتھو پیڈک سرجنز نے گھٹنے، ہاتھوں اور کندھے کے عام مسائل اور انداز نشست کی تربیت پر بات کی۔

ڈاکٹر محمد واجد نے کہا کہ، "کندھے کا درد ایک ایسا عام مسئلہ ہے جو لوگوں کی روزمرہ کی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔ لوگوں کے دو گروہ یعنی درمیانی عمر سے زیادہ عمر کے افراد اور کھلاڑی اور خواتین اس مسئلے کا شکار ہوتے ہیں۔" انھوں نے کہا کہ یہ مسائل قابل علاج ہیں اور محتاط جانچ اور دیکھ بھال کے مشورے کے بعد مریض روزمرہ کی معمول کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں اور کھیلوں کی سرگرمیاں بھی شروع کرسکتے ہیں۔ شعبہ طب میں ترقی سے ان مسائل کو ادویات، بحالی اور کی ہول سرجری کے ذریعے حل کرنا ممکن ہوگیا ہے۔

ڈی جنریٹیو آرتھرائٹس کی وجہ سے بوڑھے افراد میں گھٹنے کا درد ایک عام مسئلہ ہے۔ ڈاکٹر مسعود عمر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ عمر سے وابستہ ہے اور ابتدائی اسٹیج پر عام درد کش ادویات، گھٹنے کی ورزش اور باقاعدگی سے چلنے سے اس کا علاج ممکن ہے۔ اگر آرتھرائٹس اگلی اسٹیج پر پہنچ جائے تو آپریشن کے طریقوں مثلاً ری الائنمنٹ آسٹیوٹومی اور گھٹنوں کی تبدیلی کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔

جیسے جیسے ہمارے معاشرے میں کم مستعد اور حرکت نہ کرنے والا طرز زندگی اپنایا جارہا ہے ویسے ویسے لوگ جسم میں درد اور ریڑھ کی ہڈی کی عدم موافقت میں اضافے کی شکایت کررہے ہیں۔ " یہ ریڑھ کی ہڈی کی خراب حالت بشمول انداز نشست اور معلومات کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔" یہ بات چارج فزیوتھیراپسٹ جناب عاصم محمود نے کہی۔ اس کی ابتدائی علامات میں طویل مدت تک بیٹھنا یا کھڑا نہ رہ سکنا، زیادہ دیر تک کرسی پر بیٹھنے کے بعد اٹھنے پر کمر میں درد اور دن کے خاتمے پر جسمانی تھکن اور سستی شامل ہیں۔ انھوں نے تجویز دی کہ ان مسائل کی جانچ کسی تربیت یافتہ فزیوتھیراپسٹ سے کروانی چاہیے جو اندازنشست کی سادہ مشقوں اور ریڑھ کی ہڈی کے تحفظ کے طریقوں سے درد کے خاتمے اور صحت میں بہتری کے لیے مدد دے سکے۔

اپنی معاشرتی ذمہ داری اور ہیلتھ ریسرچ اور تعلیم میں اضافے کے عہد کے پیش نظر اے کے یو مستقل بنیادوں پر سیمینار، سمپوزیم اورکانفرنسوں کا انعقاد کرتی رہتی ہے تاکہ صحت اور تعلیم سے متعلق ایسے موضوعات پر معلومات میں اضافہ کیا جائے جو قومی اہمیت اور دلچسپی کے حامل ہیں۔

مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں:

رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 3920 486

حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 2927 486

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000

فیکس: 4294 493، 2095 493

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us