Urdu Version
 

از طرف : آغا خان یونیورسٹی، کراچی

بتاریخ : 14 جنوری 2008ء

 

آغاخان یونیورسٹی ہسپتال کا پروگرام برائے ' آثار، علامات اور علاج '

پاکستانی معاشرے میں تشدد میں اضافہ

 

" حال ہی میں سڑکوں پر ہونے والا تشدد برسوں کی دبی ہوئی مایوسی اور غم و غصے کا نتیجہ تھا۔ ایسے احساسات کو بھڑکنے کے لیے صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بار لیاقت باغ، راولپنڈی میں ہونے والے واقعات اس کا سبب بنے ۔" یہ بات آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے چیئر مین اور کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ پروفیسر مراد موسیٰ خان نے کہی۔ وہ اے کے یوایچ کے' آثار، علامات اور علاج' کے تحت عوامی آگہی کے ایک پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ اس پروگرام میں انھوں نے پاکستانی معاشرے میں تشدد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

پاکستانی معاشرے میں تشدد اور جارحانہ پن بڑھتا جارہا ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو مکمل طور پر غیر موثر کردیا گیا ہے اور انھیں سماجی، سیاسی اور معاشی عمل سے بالکل الگ کردیا گیا ہے۔ وہ حق رائے دہی اور بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری، شہری سہولیات کی عدم موجودگی اور لا اینڈ آرڈر کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے لوگوں کے ذہنی دباؤ میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔

کنسلٹنٹ سائیکائٹرسٹ ڈاکٹر احسان اﷲ سید نے بتایا کہ بچوں، بڑوں اور نوجوانوں میں موت کی ایک اہم وجہ تشدد (قتل، خودکشی اور چوٹ) ہے جو بیماریوں، کینسر اور پیدائشی امراض کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ میڈیا میں دکھائے جانے والے تشدد اور بچوں اور گھرانوں پر اس کے اثرات پر بھی انھوں نے بات چیت کی۔

آٹھ سے اٹھارہ سال کی عمر کے امریکی بچے زیادہ وقت (44.5 گھنٹے فی ہفتہ یا ساڑھے چھ گھنٹے روزانہ) کمپیوٹر، ٹیلی وژن یا گیم کھیلنے میں صرف کرتے ہیں یہ وہ دورانیہ ہے جو سونے کے علاوہ تمام سرگرمیوں سے زیادہ ہے۔ انھوں نے والدین سے پوچھا، کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے بچے اس کام میں کتنا وقت صرف کررہے ہیں؟ وہ بچے جو ٹی وی دیکھنے یا وڈیو گیم کھیلنے میں بہت زیادہ وقت صرف کرتے ہیں ان کے خیالات، احساسات اور رویے زیادہ جارحانہ اور ساتھیوں کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہوجاتے ہیں۔ میڈیا (ٹی وی، موویز، انٹرنیٹ وغیرہ) کے دلدادہ بچوں میں وقت کے ساتھ ساتھ تشدد کا رجحان پیدا ہوجاتا ہے، خون، قتل و غارت اور آفتیں ان کو متاثر نہیں کرتیں۔ والدین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ان کے بچے تشدد پر مبنی پروگرام نہ دیکھیں اور انھیں بچوں کے لیے متبادل سرگرمیاں مثلاً کھیلوں کے مواقع مہیا کرنے چاہیئیں۔

کنسلٹنٹ سائیکولوجسٹ اے کے یو ڈاکٹر نرگس اسد نے کہا کہ ذاتی اور سماجی سطح پر تشدد کئی شکلیں اختیار کرلیتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متشدد مناظر کا زیادہ سامنا مختلف جسمانی اور نفسیاتی خطرات مثلاً چوٹوں، تشدد پسندانہ رویے کے لیے زیادہ رواداری پیدا کرتا ہے اور ڈپریشن، اینگزائٹی اور دیگر نفسیاتی علامات کو خطرے کی حدوں تک پہنچا دیتا ہے۔

تمام سماجی اکائیوں یعنی والدین، اسکول، صحت کے شعبے سے وابستہ افراد، بچوں اور نوجوانوں کے لیے ریاستی مدد سے چلنے والے پروگرام، مذہبی علما، سیاستدانوں اور سول سوسائٹی کو پرامن مستقبل تخلیق کرنے کے لیے اہم کردار ادا کرنے ہونگے۔

اے کے یو ایچ عوامی رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگہی پیداکرنے کے سلسلے میں ' آثار، علامات اورعلاج' کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ اور یو اے ای میں پروگراموں کا انعقاد کرچکا ہے جن سے اب تک 50 ہزار سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ ہسپتال کا پیشینٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتاہے۔ اے کے یو ایچ کے تہتر فی صد مریضوں کا تعلق کم یا درمیانی آمدنی والے طبقوں سے ہوتا ہے۔ 1986 ء میں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 1.6 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی جاچکی ہے۔

 

مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں :

رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 4863920

حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862927

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000

فیکس: 4932095 ، 4934294 ویب سائٹ: www.aku.edu

 

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us