14مارچ 2008
سر اور گردن کا کینسر: مریضوں کی 83 فی صد تعداد تمباکو کا استعمال کرتی ہے
" آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں زیر علاج سر اور گردن کے کینسر میں مبتلا 1200 سے زائد مریضوں کی 83 فی صد تعداد کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کی عادی پائی گئی۔" یہ بات آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کے کنسلٹنٹ ای این ٹی سرجن، ڈاکٹر شہزاد غفار نے عوامی آگہی کے ایک پروگرام میں سامعین کو مطلع کرتے ہوئے کہی۔
وہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) میں کان، ناک اور حلق (ای این ٹی) کے مسائل پر مبنی ' آثار، علامات اور علاج ' پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔
سر اور گردن کا کینسر کراچی میں دوسرا سب سے زیادہ ہونے والا کینسر ہے۔ ڈاکٹر غفار نے بتایا کہ پاکستان میں سر اور گردن کے کینسر میں اضافہ ہورہا ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں ماحولیاتی عوامل مثلاً تمباکو اور شراب کو کنٹرول کرنے پر زور دیا۔
نقصان دہ اشیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ، " چھالیہ میں تانبے کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہوتی ہے جو کہ منہ کے کینسر کی ایک وجہ ہے۔ گٹکا جو ایک اور بہت زیادہ استعمال ہونے والی شے ہے ،کینسر پیدا کرنے والی اشیا کا مجموعہ ہے۔"
ان نشہ آور اشیا کے استعمال کے اور بھی بہت سے خطرناک اثرات ہوتے ہیں مثلاً کینسر سے قبل ہونے والے زخم جیسے جلد کا سفید پڑجانا جو بالآخر منہ کھلنے کے عمل کو روک دیتا ہے (سب میوکس فائبروسس)، منہ میں سفید چھالے (لیوکوپلاکیا) اور سرخ مخملی دھبے (ایرتھروپلاکیا) وغیرہ۔ ڈاکٹر غفار نے متنبہ کیا کہ، '' یہ اثرات ناقابل تلافی ہوتے ہیں چاہے آپ ان خطرناک اشیا کا استعمال ترک بھی کردیں۔ تاہم اس طرح مزید نقصان سے بچا جاسکتا ہے۔"
اگر سر اور گردن کے حصوں میں کینسر کا آغاز ہوجائے تو زیادہ تر کیسز میں سرجری کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرجری کے بعد کے پہلے پانچ سال بہت اہم ہوتے ہیں کیونکہ مرض کا دوبارہ ہونا زیادہ تر اسی عرصے کے دوران ہوتا ہے۔
کان، ناک اور حلق کے دیگر مسائل پر بھی بات کی گئی۔ شدید بہرے پن کے علاج سے متعلق بات کرتے ہوئے اے کے یو کے کنسلٹنٹ ای این ٹی سرجن ڈاکٹر سہیل اعوان نے کہا کہ، " کاک لیئر امپلانٹ موثر انداز میں ان بچوں اور بڑوں کے لیے مددگار ثابت ہوسکتا ہے جو پیدائشی طور پر سماعت سے محروم ہوں یا بعد میں محروم ہوجائیں ۔"
کاک لیئر امپلانٹ صرف اسی صورت میں مفید ہوتا ہے جب سماعت سے محرومی اندرونی کان یعنی کوکلیا میں کسی خرابی کے باعث ہو۔ یہ ان افراد کے لیے ہے جنھیں روایتی آلہ سماعت سے بہت کم یا کوئی فائدہ نہ ہورہا ہو۔ کاک لیئر امپلانٹ کا نظام روز مرہ کی آوازوں کو کوڈ پر مبنی برقی لہروں میں تبدیل کردیتا ہے۔ یہ برقی لہریں سمعی اعصاب کو تحریک دیتی ہیں اور دماغ انھیں آواز کی شکل میں سمجھنے لگتا ہے۔
ڈاکٹر اعوان نے وضاحت کی، " سماعت سے محرومی کو جتنا زیادہ عرصہ ہوچکا ہوگا، فائدے کے امکانات اتنے ہی کم ہونگے۔ اگر کسی شخص کو زبان اور بولنے کا عمل یاد ہو تو وہ کاک لیئر امپلانٹ سے زیادہ فائدہ اٹھاسکتا ہے۔" انھوں نے مزید کہا کہ وہ بچے جو سماعت سے محروم پیدا ہوئے ہوں اگر ان میں پانچ سال کی عمر سے پہلے اور ترجیحاً تین سال کی عمر میں امپلانٹ کیا جائے تو انھیں فائدہ ہوسکتا ہے۔
پروگرام کے دوران کنسلٹنٹ ای این ٹی سرجن ڈاکٹر شبیر اختر نے ناک کی الرجیز، سائنوسائٹس، ناک کی ہڈی کا ٹیڑھا ہونا اور ناک سے خون جاری ہونے کے بارے میں گفتگو کی۔
اے کے یو ایچ نے عوام سے رابطے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ' آثار، علامات اور علاج ‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، نواب شاہ اور یو اے ای میں اب تک 250 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن سے اب تک 40,000 سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
یونیورسٹی ہسپتال کا پیشینٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ 1986ءمیں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے۔
مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں:
رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 486 3920
حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 2927 486
پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000
فیکس: 493 2095, 493 4294 |