10اپریل 2008
پارکنسز کی بیماری کی دیکھ بھال ممکن ہے
" پارکنسز کی بیماری کا کوئی علاج نہیں تاہم ادویات اور بحالی کا عمل اس بیماری سے وابستہ معذوری اور علامات کی دیکھ بھال میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔" یہ بات آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) کے شعبہ نیورولوجی کے سربراہ اور کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ ڈاکٹر نادر علی سید نے آغا خان یونیورسٹی میں عالمی یوم پارکنسز سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
گوکہ پارکنسز کی بیماری میں اضافہ ہوتا رہتا ہے تاہم مرض کے بڑھنے کی شرح مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔ زیادہ تر علامات کا تعلق عضلاتی صلاحیتوں سے ہوتا ہے ۔ مرض میں مبتلا افراد کو اختیاری حرکات مثلاً کھڑے ہونے، چلنے، نیچے بیٹھنے میں آہستگی، رعشہ، ہاتھوں، ٹانگوں، جبڑے اور چہرے کی حرکات، بازو ؤ ں، ٹانگوں اور اوپری دھڑ میں سختی اور توازن بگڑنے کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ایک خاص چال جو ' پارکنسز گیٹ' کہلاتی ہے اس مرض میں مبتلا مریضوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔ اس مرض کی وجہ اب تک نامعلوم ہے لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سید نے بتایا گوکہ یہ بیماری بنیادی طور پر ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے افراد کو متاثر کرتی ہے تاہم حال ہی میں نوجوان افراد میں بھی یہ مرض پایا گیا ہے۔ پارکنسز کی بیماری کی حتمی تشخیص کے لیے کوئی لیبارٹری ٹیسٹس نہیں ہیں۔ اکثر اس تشخیص کی تصدیق کے لیے ایک مکمل نیورولوجیکل تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان پارکنسز سوسائٹی کے صدر ہارون بشیر نے اس بیماری کا ایک غیر طبی جائزہ پیش کیا۔ شعبہ صحت کے ماہرین اور دیگر افراد نے ان کے مقصدیت پر مبنی خطاب ' کبھی ہتھیار نہ ڈالو' کا بہت خیر مقدم کیا۔ اس میں اقوال، مصروفیت پر مبنی تصاویر، ٹپس اور طریقوں اور ذاتی تجربات کے ذریعے اس بیماری کے ساتھ زندگی گذارنے کا ایک عملی نظریہ فراہم کیاگیا۔ انھوں نے پاکستان پارکنسز سوسائٹی کے بارے میں گفتگو کی جو اس بیماری کی دیکھ بھال کے طریقوں سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہے۔ یہ سوسائٹی مریضوں پر مرکوز ہے اور اس مقصد کے لیے ایک ویب سائٹ بھی تیار کررہی ہے۔ سوسائٹی اس مرض کی دیکھ بھال کے عالمی طریقوں پر بھی اردو میں مواد شائع کرے گی اور پاکستان میں پارکنسنز کی بیماری کے واقعات سے متعلق معلومات اور سپورٹ گروپ بنانے کے لیے بھی مستعدی سے کوشش کررہی ہے۔ پروگرام کا اختتام پینل ڈسکشن پر ہوا جس میں اے کے یو ایچ کے ڈاکٹر مراد موسیٰ خان، ڈاکٹر نبیلہ سومرو، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی، عارف علی اور ثنا شبیر شامل تھے۔
مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں:
رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 3920 486
حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 2927 486
پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000
فیکس: 2095 493, 4294 493