Urdu Version
 

7مارچ 2008

دل کے نقص میں مبتلا بچوں کی جان بچانے اور

معمول سے قریب تر زندگی گذارنے کے بہتر امکانات

"میڈیکل سائنسز میں حالیہ ترقی نے دل کے پیدائشی نقص کے حامل بچوں کی جان بچانے اور معمول سے قریب تر زندگی گزارنے کے بہتر مواقع فراہم کیے ہیں۔" یہ بات اسسٹنٹ پروفیسر اور کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک کارڈیئک سرجن ڈاکٹر منیر امان اﷲ نے آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) میں کہی۔ دل میں سوراخ یا آکسیجن کی کمی کی وجہ سے ہونٹ اور ناخن نیلے پڑ جانا ایسے معمولی نقائص ہیں جو آپریشن کے ذریعے درست ہوسکتے ہیں۔ تقریباً ایسے تمام بچے بلوغ کی عمرکو پہنچتے ہیں اور معمول کی یا معمول سے قریب تر زندگی گذارتے ہیں۔

وہ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اے کے یو ایچ) کے ' آثار، علامات اور علاج' کے تحت ' سندھ میں پیڈیاٹرک کارڈیولوجی اور کارڈیئک سرجری کی موجودہ صورتحال ‘ کے موضوع پر حیدرآباد میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔

ڈاکٹر امان اﷲ نے آگاہ کیا کہ دل کی پیدائشی بیماریاں طبی پیچیدگیوں اور اموات کا ایک بڑا سبب ہیں۔ زیادہ سنگین صورتوں میں دل میں خون پمپ کرنے کے دوخانوں کے بجائے صرف ایک خانہ ہوسکتا ہے جس کو صحیح کرنے اور پھیپھڑوں یا دل تک خون کے بہا ؤ میں اضافے کے لیے پیلی ایٹیو آپریشن کیے جاتے ہیں۔ اوپن ہارٹ سرجری کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر امان اﷲ نے کہا کہ اس آپریشن میں ' ہارٹ اینڈ لنگ مشین ‘ در کار ہوتی ہے جو آپریشن کے دوران دو اہم ترین اعضاءیعنی دل اور پھیپھڑوں کے افعال عارضی طور پر انجام دیتی ہے۔ اس نوعیت کی سرجری میں خطرے کی شرح ممکنہ طور پر 5 تا 10 فی صد تک ہو سکتی ہے اور زیادہ تر کیسز میں آپریشن کا فیصلہ معمول کے مطابق اور غیر ہنگامی بنیادوں پر کیا جا سکتا ہے۔

اے کے یو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈ کنسلٹنٹ پیڈیاٹریشن ڈاکٹر مہناز عتیق نے بتایا کہ "دل کے پیدائشی نقص عام ہیں اور پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد بچے ان نقص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ زیادہ تر نقص سادہ ہوتے ہیں جن میں آسان آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ کیسز دشوار نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں خطرے کا عنصر زیادہ ہوتا ہے جب کہ محض چند ایک میں ایک سے زائد آپریشن کی ضرورت پیش آتی ہے۔ تقریباً 4 سے 5 ہزار بچوں میں سنگین نوعیت کے نقص ہوتے ہیں جن میں فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔"

دل میں سادہ سوراخ کے نقص سے متاثر بچہ عام طور پر مسلسل نمونیا میں مبتلا رہتا ہے یا اس کی صحیح نشوو نما نہیں ہوتی۔ ایسے سوراخوں کو زندگی کے پہلے سال ہی میں آپریشن کے ذریعے بند کرنا ہوتا ہے۔ تا ہم کچھ نقص آپریشن کے بغیر دیگر آلات کے ذریعے بھی درست کیے جا سکتے ہیں۔ بعض سنگین نقص جیسے شہ رگ کی تنگی یا بڑی شریانوں کے اپنی جگہ پر نہ ہونے کی صورت میں پیدائش کے فوراً بعدآپریشن کروانا ہوتا ہے۔ تا ہم ڈاکٹر مہناز نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ یہ تمام آپریشن اب پاکستان میں ہوسکتے ہیں۔

اے کے یو ایچ نے عوام سے رابطہ کرنے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ' آثار، علامات اور علاج ‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، نواب شاہ اور یو اے ای میں اب تک 250 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کیا ہے جن سے اب تک 40 ہزار سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔

یونیورسٹی ہسپتال کا پیشینٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ 1986ءمیں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2.0 بلین روپے سے زائد رقم 3 لاکھ سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے۔

مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں:

رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 3920 486

حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 2927 486

پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000

فیکس: 2095 493 ,4294 493

Home Site Map Contact Us
 
School of Nursing Hospitals Medical College Institute for the Study of Muslim Civilisations Institute for Educational Development Examination Board  Home Site Map Contact Us