6 فروری 2008 ء
سرطان کسی کو بھی متاثرکرسکتا ہے
سرطان کا علاج مریضوں، اہل خانہ اور معاشرے کے لیے پریشان کن ہوتا ہے
” سرطان بوڑھے اور جوان ، امیر اور غریب، مرد، عورت اور بچوں غرض ہر کسی کو متاثر کرتا ہے اور یہ مریضوں، ان کے اہل خانہ اور معاشروں کے لیے بہت پریشان کن ہوتا ہے“۔ ان خیالات کا اظہار آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) کے کنسلٹنٹ آنکولوجسٹ ڈاکٹر نجیب نعمت ا ﷲ نے کیا۔ وہ یونیورسٹی ہسپتال کے تحت ' ورلڈ کینسر ڈے ‘ کے سلسلے میں 6 فروری 2008ء کو منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کررہے تھے۔ سرطان دنیا بھر، بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے، گوکہ ان میں سے بیشتر اموات کو روکا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر نعمت ا ﷲ نے صرف تمباکو کے استعمال کو سب سے اہم خطرناک جز قرار دیا اور کہا کہ ملک میں سرطان سے بچاؤکی حکمت عملیوں کے نفاذ سے اس کے مضر اثرات میں ایک تہائی حدتک کمی کی جاسکتی ہے۔
اے کے یو کے دیگر طبی ماہرین نے بھی اس پروگرام سے خطاب کیا۔ پلمونولوجی اور کریٹیکل کیئر میڈیسن سیکشن کے سربراہ پروفیسر جاوید خان نے کہا کہ اگر ' گٹکے ‘ ، ' پان ‘ اور ' نسوار ‘ کی کھپت کا اندازہ لگایا جائے تو غالبا ً پاکستان میں تمباکو کے استعمال کی شرح دنیا بھر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوگی۔ ڈاکٹر خان نے کینسر سوسائٹی کی جانب سے کی جانے والی تحقیق کا حوالہ دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں سرطان میں مبتلا ہونے والے تمام مریضوں میں سے تقریبا ً 50 فی صد کو بچایا جاسکتا ہے۔
کنسلٹنٹ یورولوجسٹ اور چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر فرحت عباس نے اپنی پریزینٹیشن میں غذا میں چربی اور سرخ گوشت کی زیادہ مقدار لینے کے بارے میں خبردار کیا اور تجویز دی کہ 50 سال سے زائد عمر کے مردوں کو سالانہ ڈیجیٹل ریکٹل ایگزامنیشن (ڈی آر ای) اورخون کا پی ایس اے ٹیسٹ کرانا چاہیے تاکہ اس مرض کی جلد تشخیص ہوسکے۔ انہوں نے وٹامن ای، پیلے رنگ کے پھلوں ، ہرے پتے والی سبزیوں اور ٹماٹر کے استعمال کا بھی مشورہ دیا۔
بریسٹ کینسر صحت کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے جو ہر آٹھ میں سے ایک عورت کو متاثر کرتا ہے ۔ یہ عالمی سطح پر پریشانیوں میں اضافے کا سبب ہے ۔کنسلٹنٹ بریسٹ سرجن ڈاکٹر نازیہ ریاض نے اس مرض کے خطرناک عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بریسٹ کینسر کے امکانات عمر کے ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ عمر کی چوتھی دہائی میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے جبکہ پانچویں ، چھٹی اور ساتویں دہائیوں میں بتدریج اس کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں۔ اس مرض کے دیگر جانے پہچانے خطرناک عوامل میں خاندان کے پہلے درجے کے رشتے داروں(ماں، بہن اور بیٹی) میں بریسٹ کینسرکی موجودگی، تاخیر سے حیض بند ہونا اور 30 سال کی عمر کے بعد بچے کی ولادت شامل ہیں۔ ڈاکٹر ریاض نے بریسٹ کینسر کے تشخیصی ٹیسٹ کرانے کی بھی تجویز دی جس میں میموگرام، کلینیکل بریسٹ ایگزامنیشن اور بریسٹ سیلف ایگزامنیشن(بی ایس ای) شامل ہیں۔
کنسلٹنٹ اوٹولیرنجولوجسٹ اور سر اور گردن کے سرجن ڈاکٹر شہزاد غفار نے خبردار کیا کہ ' پان ‘ ، ' چھالیہ ‘ اور ' گٹکے ‘ میں کارسینوجینز (سرطان پیدا کرنے والی اشیاء) کی بلند سطحیں شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر سرطان کے آثار پیدا ہونے کے بعد بھی ان چیزوں کا استعمال ترک کر دیا جائے تو مزید نقصانات سے بچا جاسکتا ہے گو کہ پہلے سے موجود تبدیلیوں کو نارمل حالت میں بدلا نہیں جاسکے گا ۔
اے کے یو ایچ عوامی رابطے اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ' آثار، علامات اور علاج ‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، نوابشاہ اور یو اے ای میں 250 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کرچکا ہے جن سے اب تک 50 ہزار سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کا پیشنٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ اے کے یو ایچ میں علاج کروانے والے 73 فی صد مریضوں کا تعلق کم یا درمیانی آمدنی والے طبقے سے ہوتا ہے ۔ 1986 ء میں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم 310,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی جاچکی ہے۔
مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں :
رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 4863920
حسان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 4862927
پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی
اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000
فیکس: 4932095 ، 4934294
|