6مارچ 2008
اے کے یو میں گردوں کا عالمی دن
ہر تین میں سے ایک پاکستانی گردوں کے مرض کا شکار
'' دنیا بھر میں کرانک کڈنی ڈزیز ایک عام طبی مسئلہ ہے اور اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں چالیس سال سے زیادہ عمر کا ہر تین میں سے ایک فرد گردوں کی کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے۔" یہ بات کنسلٹنٹ نیفرولوجسٹ ڈاکٹر وقار کاشف نے آغا خان یونیورسٹی (اے کے یو) میں کہی۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کرانک کڈنی ڈزیز کی دو عام ترین وجوہات ہیں اور اگر ان پر توجہ نہ دی جائے تو مریض کو زندہ رہنے کے لیے ہفتے میں تین بار ڈائی لیسس کروانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ گردوں کا عالمی دن منانے کے سلسلے میں یونیورسٹی نے 6 مارچ 2008 کو ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا جس سے وہ خطاب کررہے تھے۔
ڈاکٹر کاشف نے بڑے پیمانے پر معاشرے کے ان طبقوں کے معائنے کی ضرورت پر زور دیا جن میں گردے کی بیماری کا خطرہ ہے۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عام افراد کے ساتھ ساتھ معالجین کی آگاہی میں اضافہ کرنا بھی ضروری ہے۔ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوری تشخیص اور علاج بیشتر مریضوں میں گردوں کی خرابی کے عمل میں تاخیر یا ممکنہ طور پر بچاؤکا سبب بن سکتے ہیں۔
اہم حکمت عملیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے دیگر چیزوں کے علاوہ انھوں نے بلڈ پریشر اور بلڈ گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے، بلڈ پریشر کی کچھ مخصوص ادویات کے استعمال، ایسی ادویات (خاص طور پر کچھ مخصوص پین کلرز) کے استعمال سے پرہیز کا مشورہ دیا جن سے گردے مزید خراب ہوسکتے ہیں ۔ انھوں نے کم نمک والی خوراک اور امراض قلب کے خطرے کو کم کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
اے کے یو کے کنسلٹنٹ یورولوجسٹ ڈاکٹر رضی الدین بیابانی نے پاکستان میں گردے کی پتھری کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ کرانک کڈنی ڈزیز کی ایک ایسی اہم وجہ ہے جس سے بچاؤ ممکن ہے۔ انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان کا تعلق ' اسٹون بیلٹ' سے ہے۔ ہسپتالوں سے ملنے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنوبی علاقوں میں ہر 100,000 میں سے 200 افراد اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ بار بار ہونے والی پتھری سے بچاؤ کے لیے ڈاکٹر بیابانی نے یورینری انفیکشن سے بچاؤ اور علاج، مائعات کا زیادہ استعمال، پروٹین کا کم استعمال اور خوراک کے استعمال میں اعتدال کا مشورہ دیا۔
علاج کے مختلف دستیاب طریقوں کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹر بیابانی نے اینڈو اسکوپی کا ذکر کیا جس سے پیشاب کی نالی اور مثانے میں موجود پتھری کا علاج کیا جاتا ہے۔ گردوں میں موجود بڑے پتھر نکالنے کے لیے ' پی سی این ایل' نامی پروسیجر کیا جاتا ہے جس میں جلد میں سوراخ کرکے پتھر تک پہنچا جاتا ہے۔
بچوں میں کرانک کڈنی ڈزیز سے بچاؤ اور فوری جانچ کے لیے یورینری ٹریکٹ انفیکشن کی تشخیص اہم ہے۔ اے کے یو کے کنسلٹنٹ پیڈیاٹرک نیفرولوجسٹ ڈاکٹر اقتدار خان نے بچوں میں گردوں کی بیماری کے خطرے کے ابتدائی آثار کا ذکر کیا جن میں ہائی بلڈ پریشر، کمر کا درد، آنکھوں کا سوجنا، ہاتھوں اور پیروں کی سوجن اور پیشاب میں خون کا آنا شامل ہے۔ انھوں نے گردوں کی بیماری یا انفیکشن کا شبہ ہونے کی صورت میں فوری تفتیش کی اہمیت پر زور دیا۔
اے کے یو کی کنسلٹنٹ نیفرولوجسٹ پروفیسر تزئین جعفر نے ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کی بیماری کی چھان بین کے اہم پہلوؤں پر گفتگو کی۔
اے کے یو ایچ عوام سے رابطہ کرنے کے پروگرام اور معاشرے میں فوری تشخیص اور بروقت علاج کی آگاہی پیدا کرنے کے سلسلے میں ' آثار، علامات اور علاج ‘ کے عنوان کے تحت کراچی، حیدرآباد، کوئٹہ، نواب شاہ اور یو اے ای میں اب تک 250 سے زائد پروگراموں کا انعقاد کرچکا ہے جن سے اب تک 40 ہزار سے زائد افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔
یونیورسٹی ہسپتال کا پیشینٹ ویلفیئر پروگرام نادار اور مستحق مریضوں کو علاج کے لیے مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ 1986ءمیں اس ویلفیئر پروگرام کے آغاز سے لے کر اب تک 2 بلین روپے سے زائد رقم 300,000 سے زائد مستحق مریضوں پر خرچ کی گئی ہے۔
مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی رابطہ کریں:
رسول سارنگ، اسسٹنٹ مینیجر میڈیا، فون: 3920 486
حسّان اختر، میڈیا ایگزیکٹیو، فون: 2927 486
پبلک افیئرز ڈیپارٹمنٹ، آغا خان یونیورسٹی، اسٹیڈیم روڈ، پی او بکس 3500 ، کراچی 74000
فیکس: 2095 493 ,4294 493 |